ایف بی آر کی ملک بھر میں غیر قانونی سگریٹ مینوفیکچرنگ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کے مطابق ملیر میں ’ہونڈا سگریٹ کمپنی‘ کے نام سے ایک غیر قانونی یونٹ قائم تھا۔ یہ یونٹ 2 ہزار گز سے زائد رقبے پر قائم کیا گیا تھا۔
ایف بی آر کے مطابق یونٹ میں تقریباً ایک ماہ قبل سگریٹ کی پیداوار شروع ہوئی تھی۔ اس کی یومیہ پیداواری صلاحیت 100 کارٹن تھی۔
کروڑوں روپے کی مشینری ضبط
کارروائی کے دوران 2 سگریٹ بنانے والی مشینیں برآمد ہوئیں۔ حکام کے مطابق ہر مشین کی مالیت تقریباً 30 کروڑ روپے تھی۔
ایف بی آر نے 2 ٹوکن مشینیں بھی تحویل میں لے لیں۔ پیکنگ اور پلاسٹک ریپر مشین بھی ضبط کی گئی۔
فلٹر بنانے والی مشین اور 300 کے وی اے کا جنریٹر بھی برآمد ہوا۔ حکام نے دیگر متعلقہ مشینری بھی تحویل میں لے لی۔
سگریٹ اور تمباکو بھی برآمد
ایف بی آر کے مطابق یونٹ سے 60 کارٹن سگریٹ برآمد ہوئے۔
کارروائی میں تقریباً ڈیڑھ لاکھ کھلی سگریٹ اسٹکس بھی ملیں۔ حکام نے 50 سے زائد بورے تمباکو بھی قبضے میں لیے۔
اس کے علاوہ فلٹرز کے 24 کارٹن اور پیکنگ میٹریل کے 47 کارٹن برآمد ہوئے۔
سگریٹ کی ترسیل میں استعمال ہونے والی 3 گاڑیاں بھی تحویل میں لے لی گئیں۔ ایک لیپ ٹاپ بھی قبضے میں لیا گیا۔
یونٹ میں 40 تک کارکن کام کرتے تھے
ایف بی آر حکام کے مطابق برآمد سامان کی مجموعی مالیت تقریباً 70 سے 75 کروڑ روپے ہے۔
ذرائع کے مطابق یونٹ کے لیے جگہ تقریباً چار ماہ قبل کرائے پر لی گئی تھی۔ بعد میں اسے سگریٹ کی تیاری کے لیے تیار کیا گیا۔
حکام کے مطابق یونٹ میں 35 سے 40 کارکن کام کر رہے تھے۔ ان میں بعض تجربہ کار کارکن خیبرپختونخوا کے ضلع صوابی سے لائے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق بعض کارکن ماضی میں خیبر ٹوبیکو کمپنی میں بھی کام کرچکے ہیں۔
ایف بی آر نے یونٹ کے خلاف مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔ حکام کے مطابق حتمی مالیت اور مزید برآمدگی کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی۔

