کراچی میں سندھ بار کونسل کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے میر رضا کیس پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا کہ میر رضا کا قتل افسوسناک واقعہ ہے۔ اس کیس میں پولیس سے کوتاہیاں ہوئی ہیں۔
آئی جی سندھ کے مطابق نئی میڈیکو لیگل رپورٹ کی روشنی میں کیس کی تحقیقات جاری ہیں۔ نئی تفتیشی ٹیم کو شفاف اور آزادانہ تحقیقات کی ہدایت کی گئی ہے۔
میر رضا کیس کی نئی تحقیقات
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ میر رضا کی فیملی نے سابق تفتیشی ٹیم کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ قانون کے مطابق اس معاملے پر کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ اس مرحلے پر مزید کچھ کہنا مناسب نہیں ہوگا۔
پولیس اور وکلا مل کر کام کریں، آئی جی سندھ
آئی جی سندھ نے کہا کہ پولیس اور وکلا ایک ہی کرمنل جسٹس سسٹم کا حصہ ہیں۔ وکلا پر بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس اور وکلا کو مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ تھانوں کا گھیراؤ کرنے کے بجائے بات چیت سے مسائل حل کیے جائیں۔
جاوید عالم اوڈھو کے مطابق مشترکہ کوششوں سے کرمنل جسٹس سسٹم مزید مضبوط ہوسکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران 27 ہزار پولیس اہلکاروں کو سزائیں دی گئی ہیں۔ آئی جی سندھ نے سندھ بار کونسل سے اپنے اختیارات مؤثر انداز میں استعمال کرنے کی اپیل بھی کی۔
کراچی میں جرائم میں 14 فیصد کمی، آئی جی سندھ
کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ مجموعی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
ان کے مطابق کراچی میں جرائم میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ سندھ پولیس میں ایک لاکھ 60 ہزار اہلکار ہیں۔ ان میں سے ایک لاکھ 32 ہزار اہلکار اس وقت ڈیوٹی انجام دے رہے ہیں۔

