Tashakur News

گلشن اقبال ٹاؤن: سیاسی جماعتوں کا احتجاج، ساڑھے 3 سالہ کارکردگی کا حساب مانگ لیا

گلشن اقبال ٹاؤن میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، اسٹریٹ لائٹس کی عدم دستیابی، پانی و سیوریج کے مسائل اور دیگر بنیادی سہولیات کی ناقص صورتحال کے خلاف سیاسی جماعتوں اور شہریوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

مظاہرین نے ٹاؤن چیئرمین ڈاکٹر فواد کی ساڑھے تین سالہ کارکردگی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ٹاؤن کے مالی اور انتظامی معاملات کا مکمل اور شفاف آڈٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔

احتجاج میں تحریک انصاف کے سٹی کونسل ممبر محمد فیضان، جماعت اسلامی کے وائس چیئرمین یوسی 04 ایڈووکیٹ آصف آزاد، جماعت اسلامی گلشن اقبال کے سینئر رکن نعمان بھائی، صدر گلشن اقبال ٹاؤن پی ٹی آئی حمزہ علوی، منتخب کونسلرز، سیاسی و سماجی کارکنان اور شہریوں نے شرکت کی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ ساڑھے تین سال گزرنے کے باوجود گلشن اقبال کے بنیادی مسائل حل نہیں ہوسکے۔ ان کے مطابق متعدد سڑکیں بدترین حالت میں ہیں جبکہ اسٹریٹ لائٹس، پانی اور سیوریج کے مسائل بھی شہریوں کے لیے مشکلات کا باعث بن رہے ہیں۔

احتجاجی شرکاء نے ٹاؤن کی آمدنی اور اخراجات پر بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بل بورڈ ٹیکس، روڈ کٹنگ ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس، پارکس اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کی مکمل تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔

مظاہرین نے گزشتہ ساڑھے تین سال کے ترقیاتی اور مالی اخراجات کا آزادانہ، شفاف اور مکمل آڈٹ کرانے اور کسی بھی بے ضابطگی کی صورت میں ذمہ داروں کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے گلشن اقبال کی خستہ حال سڑکوں کی فوری تعمیر و مرمت، اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب، پانی و سیوریج کے مسائل کے حل اور دیگر بنیادی بلدیاتی سہولیات کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

احتجاجی منتظمین نے خبردار کیا کہ مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ ہوا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے یونیورسٹی روڈ پر واقع متعلقہ ٹاؤن دفتر کے باہر احتجاج اور دھرنے سمیت آئندہ کا لائحہ عمل اختیار کرنے کا اعلان بھی کیا۔

مظاہرین نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور امیر کراچی منعم ظفر سے گلشن اقبال کے مسائل کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

شرکاء نے کہا کہ گلشن اقبال کے شہری اپنے بنیادی حقوق، بلدیاتی سہولیات اور ٹاؤن کے مالی معاملات میں شفافیت کے حصول تک اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔

Exit mobile version