ایرانی خبر رساں اداروں کے مطابق علی نیکزاد نے ایرانی پارلیمنٹ میں خطے کی موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے جنگ کے دوران ہی اپنے مخالفین کو واضح پیغام دیا تھا کہ آبنائے ہرمز پہلے کی طرح نہیں رہے گی۔
ان کے مطابق ایران نے کئی مرتبہ واضح کیا کہ جنگ کے بعد اس اہم آبی گزرگاہ کے معاملات ماضی کے طریقہ کار کے تحت نہیں چلائے جائیں گے، تاہم مخالف فریق نے ان انتباہات کو نظر انداز کیا۔
علی نیکزاد نے دعویٰ کیا کہ وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال واضح ہوگئی ہے اور امریکا و اسرائیل اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو صرف فوجی طاقت کے ذریعے دوبارہ کھولنا ممکن نہیں۔
ایرانی نائب اسپیکر کے مطابق خطے میں ایک نیا نظام تشکیل پا رہا ہے اور متعلقہ فریقوں کو اس نئی صورتحال کو تسلیم کرنا ہوگا۔ تاہم انہوں نے مستقبل میں آبنائے ہرمز کے لیے مجوزہ نظام کی عملی شکل کی وضاحت نہیں کی۔
حالیہ عرصے میں ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی محفوظ آمدورفت کے لیے نئے انتظامات پر بات چیت جاری ہے۔ ایران پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ محفوظ بحری راستے کا تعین اور آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنا دو الگ معاملات ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق مستقبل میں بحری جہازوں کی آمدورفت، سکیورٹی، ماحولیاتی تحفظ اور دیگر بحری خدمات کے لیے نئے طریقہ کار وضع کیے جا سکتے ہیں۔
علی نیکزاد نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے کے ساتھ ایران کی موجودہ ترجیحات میں معاشی مسائل کا حل بھی شامل ہے۔
ان کے مطابق جنگ اور طویل کشیدگی نے ایرانی معیشت کو مشکلات سے دوچار کیا ہے، اس لیے اقتصادی مسائل کم کرنا اور ملکی معیشت کو مستحکم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔

