میر رضا کیس کے لیے قائم نئی تحقیقاتی ٹیم کا اجلاس ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن عامر فاروقی کی زیرِ صدارت ہوا۔ اجلاس میں میر رضا کے والدین، بہن اور ان کے وکیل جبران ناصر نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جبران ناصر نے کہا کہ گزشتہ 11 دنوں میں جس سرکاری افسر نے اپنا کام کیا، تنقید اسی پر کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق میر رضا کیس کے حقائق سامنے لانے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ڈاکٹر سمیہ کو تنقید کا نشانہ بنانا ناانصافی ہے۔
جبران ناصر نے کہا کہ میڈیکل بورڈ عدالت کے حکم پر قائم ہوا تھا۔ ان کے مطابق چند افراد نے جلد بازی میں کیس کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی، تاہم سندھ حکومت نے اپنی غلطی درست کی اور تحقیقات کا رخ تبدیل کیا۔
انہوں نے کہا کہ ناکامی سندھ حکومت کی نہیں بلکہ ان افراد کی ہوئی جنہوں نے ابتدا میں غلط مؤقف اختیار کیا۔ جبران ناصر کے مطابق حقائق سامنے آنے کے بعد قتل کے شواہد کو تسلیم کیا گیا۔
میر رضا کے والد نے بھی نئی تحقیقاتی ٹیم کی کارروائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پیش رفت سے انہیں کچھ اطمینان ملا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حقائق پہلے سامنے آ جاتے تو شاید قبر کشائی کی ضرورت پیش نہ آتی۔
انہوں نے کہا کہ کیس اب ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور انہیں امید ہے کہ ان کے بیٹے کو انصاف ملے گا۔ ان کے مطابق نئی تحقیقاتی ٹیم کو خاندان کا مؤقف بتا دیا گیا ہے اور آئندہ تین سے چار دن میں تحقیقات کے نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
ادھر آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا ہے کہ میر رضا کیس حساس نوعیت کا معاملہ ہے اور پولیس و سندھ حکومت کا مقصد کیس کو درست طریقے سے حل کرنا ہے۔
آئی جی سندھ کے مطابق کیس میں زیادہ ابہام میڈیکو لیگل رپورٹ کے باعث پیدا ہوا، کیونکہ ابتدائی طور پر ایک ڈاکٹر نے مختلف رپورٹ پیش کی تھی۔
جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ تحقیقات کے لیے نئی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے تاکہ کیس کی تحقیقات پر عوام کا اعتماد بحال ہو۔ انہوں نے نئی تحقیقاتی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ متاثرہ خاندان اور میڈیا کے ساتھ رابطہ کھلا رکھا جائے۔

