ارمان بلوچ نے کالعدم تنظیم سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئندہ کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔
ان کے مطابق وہ روزگار کی تلاش میں ایران گئے تھے۔ وہاں انہیں مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔ بعد ازاں انہیں پہاڑی علاقے میں منتقل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہاں کالعدم بلوچ لبریشن فرنٹ کے ایک کمانڈر سے ملاقات کرائی گئی۔ اس کے بعد انہیں زبردستی تنظیم میں شامل کیا گیا۔
تنظیم چھوڑنے کی کوشش
ارمان بلوچ نے دعویٰ کیا کہ انہیں چھ ماہ تک عسکری تربیت دی گئی۔ بعد میں انہیں تمپ اور بلیدہ میں دو حملوں میں استعمال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے بعد انہیں احساس ہوا کہ یہ راستہ غلط ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے تنظیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے بقول جب انہوں نے یہ کوشش کی تو انہیں تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
پُرامن زندگی گزارنے کا عزم
ارمان بلوچ نے کہا کہ اب وہ ہر قسم کی غیر قانونی سرگرمی سے دور رہیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ وہ آئندہ پُرامن اور قانون کے مطابق زندگی گزاریں گے۔

