Site icon Tashakur News

کراچی بار: آئی جی سندھ سے مذاکرات کامیاب، وکلاء نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان

کراچی بار میں آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو اور وکلاء کی قیادت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد وکلاء نے سابق ممبر منیجنگ کمیٹی کراچی بار ایسوسی ایشن اشفاق ابڑو پر مبینہ پولیس تشدد کے خلاف جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔

کراچی بار میں ہونے والی ملاقات میں جنرل سیکریٹری محمد ارشد شر، مینجنگ کمیٹی کے اراکین، اے آئی جی آپریشن بشیر اے بروہی، ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا، ایس ایس پی ساؤتھ اور دیگر پولیس افسران بھی شریک ہوئے۔ ملاقات کے بعد آئی جی سندھ اور کراچی بار کی قیادت نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا، تاہم اسے افہام و تفہیم کے ذریعے حل کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بار، بینچ اور پولیس کو باہمی تعاون کے ساتھ کام کرنا ہوگا کیونکہ ریاستی نظام کی مضبوطی اسی میں ہے۔ ان کے بقول ذاتی اختلافات سے بالاتر ہو کر اداروں کے مفاد میں فیصلے کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیرِ داخلہ سے بھی رابطہ ہوا اور انہیں آگاہ کیا گیا کہ ایسے واقعات سے پولیس اور وکلاء کے تعلقات متاثر نہیں ہونے چاہییں۔ آئی جی سندھ نے کہا کہ مستقبل میں پولیس اور وکلاء کے درمیان کسی بھی تنازع کے مستقل حل کے لیے باقاعدہ مشاورت کا نظام قائم ہونا چاہیے۔

جاوید عالم اوڈھو نے اعتراف کیا کہ پولیس کارروائیوں کے دوران بعض اوقات غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں، تاہم وکلاء پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے کردار سے قانون کی بالادستی کو فروغ دیں۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور وکلاء کے درمیان اختلافات کا نقصان بالآخر عوام کو پہنچتا ہے، اس لیے دونوں اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔

صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ آئی جی سندھ کی بار آمد مثبت پیش رفت ہے اور اسی جذبے کے پیش نظر وکلاء مزید احتجاج یا کارروائی نہیں کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ بھی واپس لیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کی بنیادی خواہش صرف یہ ہے کہ تھانوں میں آنے والے ہر وکیل کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی وکیل ضابطے کی خلاف ورزی کرے تو اس کی شکایت سندھ بار کونسل سے کی جائے، جبکہ وہ خود بھی وکلاء کو ہدایت دیں گے کہ تھانوں میں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔

Exit mobile version