پاک ایران تجارت کے فروغ کے لیے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایرانی وزیر صنعت، کان کنی و تجارت سید محمد اتابک کی سربراہی میں 6 رکنی وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، سرحدی تجارت اور اقتصادی تعاون پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ہمسایہ ملک ایران کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے حالیہ گفتگو میں پائیدار امن اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔
وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ مسلسل اقدامات کے ذریعے پاکستان اور ایران کی قیادت کی جانب سے مقرر کردہ 10 ارب ڈالر کے دوطرفہ تجارت کے ہدف کو حاصل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خوراک، زرعی اجناس اور دیگر تجارتی شعبوں میں تعاون سے دونوں ممالک کو فائدہ پہنچے گا۔
ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران نے سرحدی تجارت کو مزید آسان بنانے، 24 گھنٹے بارڈر کھلا رکھنے کے لیے سہولیات میں اضافہ، لاجسٹکس نظام بہتر بنانے اور کسٹمز طریقہ کار میں ہم آہنگی پیدا کرنے پر اتفاق کیا۔
دونوں ممالک نے کان کنی کے شعبے، خاص طور پر قیمتی پتھروں کی پراسیسنگ اور ویلیو ایڈیشن میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے نیک خواہشات کا پیغام دیا۔
ایرانی وزیر سید محمد اتابک نے پاکستان کے پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایران پاکستان کے ساتھ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے کے حوالے سے تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزراء رانا تنویر حسین، جام کمال خان، علی پرویز ملک، جنید انور چوہدری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، معاونین خصوصی سید طارق فاطمی، ہارون اختر اور طلحہ برکی سمیت متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔

