Site icon Tashakur News

اغواء برائے تاوان: کراچی میں تاوان کے لیے خود ساختہ اغواء کا ڈرامہ بے نقاب، مغوی بحفاظت بازیاب

اغواء برائے تاوان کے مقدمے میں کراچی کی ملیر پولیس اور سی پی ایل سی نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے شاہ لطیف تھانے میں درج کیس کا معمہ حل کر لیا۔ پولیس نے جدید تکنیکی ذرائع کی مدد سے محمد اسماعیل کو بحفاظت بازیاب کر لیا، جبکہ تحقیقات کے دوران یہ انکشاف سامنے آیا کہ مبینہ اغواء دراصل ایک خود ساختہ منصوبہ تھا۔

پولیس کے مطابق مغوی کے اہلِ خانہ کو مختلف اوقات میں پولیس اہلکار ظاہر کر کے گمراہ کیا جاتا رہا، جبکہ افغانستان کے رجسٹرڈ نمبر سے تاوان کی غرض سے متعدد کالیں بھی کی گئیں تاکہ واقعے کو حقیقی اغواء کا تاثر دیا جا سکے۔

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے سندھ کے علاقے بھٹ شاہ، تعلقہ ہالا میں کارروائی کر کے محمد اسماعیل کو بازیاب کیا۔ تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ اسماعیل نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اہلِ خانہ سے تاوان وصول کرنے کی غرض سے یہ منصوبہ بنایا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کو حقیقت کا رنگ دینے کے لیے ایک ساتھی نے محمد اسماعیل کی ٹانگ میں گولی بھی ماری تاکہ اغواء کی کہانی زیادہ قابلِ یقین نظر آئے۔

تحقیقات میں فرحان اور عمران کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ پولیس کے مطابق مرکزی ملزم عمران فرار ہے، جس کی گرفتاری کے لیے مختلف مقامات پر چھاپے مارے جا رہے ہیں، جبکہ دیگر قانونی کارروائی بھی جاری ہے۔

Exit mobile version