PDMA سندھ کے بورڈ کا 24واں اجلاس مشیر وزیراعلیٰ سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ سے متعلق مالی، انتظامی اور ترقیاتی امور کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ کی سرمایہ کاری، امدادی مشینری اور آلات کی خریداری پر غور کیا گیا۔
شرکا نے پوسٹ مون سون رپورٹ اور کنٹریکٹ ملازمین کی تنخواہوں سے متعلق معاملات بھی زیر بحث لائے۔
اجلاس میں بینیفشری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم، مالی سال 2025-26 کے اخراجات اور تھرڈ پارٹی آڈٹ کا بھی جائزہ لیا گیا۔
اہم فیصلے
بورڈ نے 23ویں اجلاس کے منٹس کی متفقہ طور پر توثیق کر دی۔
اجلاس میں جی آئی ایس اور ڈیٹا انٹری آپریٹرز کے کنٹریکٹس میں توسیع پر غور کیا گیا۔
ملازمین کی تنخواہوں کے تحفظ اور سروس رینڈرڈ ملازمین سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔
گیانچند ایسرانی نے محکمہ خزانہ سے وضاحت موصول نہ ہونے پر معاملے کی پیروی جاری رکھنے کی ہدایت دی۔
انہوں نے آئندہ اجلاس میں پیش رفت رپورٹ پیش کرنے کی بھی ہدایت کی۔
فنڈز اور ڈیجیٹل نظام
بورڈ نے سندھ بینک میں پورٹ فولیو انویسٹمنٹ اکاؤنٹ کھولنے کی تجویز منظور کر لی۔
اجلاس نے مارکیٹ ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری کی بھی منظوری دی۔
شرکا کو پوسٹ مون سون صورتحال اور بینیفشری انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
گیانچند ایسرانی نے امدادی سامان، اسٹاک اور مستحقین کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ برقرار رکھنے کی ہدایت کی۔
مالی اور ترقیاتی منصوبے
اجلاس میں مالی سال 2025-26 کے اخراجات اور ریلیف فنڈ کا جائزہ لیا گیا۔
کمبیٹ ڈیزاسٹر فنڈ اور ترقیاتی منصوبوں کے مالی معاملات بھی زیر غور آئے۔
شرکا نے مالی سال 2026-27 کے لیے نئی آسامیوں، داخلی آڈٹ پوسٹوں اور اے ڈی پی اسکیموں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
مشیر وزیراعلیٰ کا مؤقف
گیانچند ایسرانی نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو ایک فعال، جوابدہ اور جدید ادارے کے طور پر اپنی استعداد مزید بہتر بنانا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے پیشگی منصوبہ بندی، بروقت فیصلے اور وسائل کا مؤثر استعمال ضروری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امدادی سرگرمیوں میں شفافیت، احتساب اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال حکومت سندھ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

