انمول پنکی سے متعلق مقدمے میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے پولیس کا حتمی چالان منظور کر لیا۔ پولیس نے کیمیکل رپورٹ کی بنیاد پر مقدمے میں قتل کی دفعہ ختم کرکے قتل بالسبب کی دفعہ شامل کر دی۔
عدالتی کارروائی کے دوران پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ انمول عرف پنکی کے خلاف بغدادی تھانے میں قتل کا مقدمہ درج تھا، تاہم تحقیقات مکمل ہونے کے بعد چالان میں قانونی دفعات تبدیل کر دی گئیں۔
پولیس کے مطابق ایک نامعلوم شخص کی لاش فٹ پاتھ سے ملی تھی۔ لاش کی جیب سے ایک ڈبیا ملی، جس پر انمول پنکی کا نام درج تھا۔ اس واقعے کے تقریباً ایک ماہ بعد پولیس نے مقدمہ درج کیا۔
تحقیقات کے دوران کراچی یونیورسٹی کی کیمیکل رپورٹ سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق متوفی کی موت نشے کے باعث ہوئی۔ اسی بنیاد پر پولیس نے قتل کی دفعہ ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ متوفی کی شناخت اب تک نہیں ہو سکی۔
پولیس کے مطابق قتل بالسبب کے مقدمے میں سزا کی نوعیت مختلف ہوتی ہے۔ اس مقدمے میں قید کی سزا نہیں ہوتی، جبکہ قانون کے مطابق دیت کی ادائیگی کا اطلاق ہو سکتا ہے۔

