امریکا، ایران اور عمان آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ایک عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس کے مطابق، دو علاقائی ذرائع اور ایک امریکی عہدیدار نے بتایا ہے کہ معاہدے کا باضابطہ اعلان آج متوقع ہے۔
جنگ بندی اور مذاکرات کی بحالی
رپورٹ کے مطابق کئی ہفتوں کے مذاکرات کے بعد تیار ہونے والے مجوزہ معاہدے کا مقصد امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنا ہے۔ اس کے ساتھ جوہری معاہدے پر دوبارہ بات چیت بھی شروع کی جائے گی۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ مذاکرات جاری ہیں۔ ان کے مطابق امریکا ایران کو کسی بڑی کارروائی سے پہلے آخری موقع دینا چاہتا ہے۔
آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کا نیا انتظام
رپورٹ کے مطابق معاہدے میں آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے لیے 60 روزہ عبوری انتظام شامل ہے۔ اس مدت میں خلیج کی جانب جانے والے جہاز ایران کی شمالی لین استعمال کریں گے۔ بحیرہ عرب کی طرف جانے والے جہاز عمان کی جنوبی لین سے گزریں گے۔ اس دوران کسی قسم کا ٹول یا فیس وصول نہیں کی جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین 30 روز کے اندر درمیانی بحری لین سے بارودی سرنگیں بھی صاف کریں گے۔ بعد ازاں اس لین کو مستقل انتظام کے تحت دونوں سمتوں کی آمدورفت کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
علاقائی ممالک اور ثالثی کا کردار
علاقائی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں عمان اور ایران کے ساتھ قطر، پاکستان اور سعودی عرب نے بھی ثالثی کا کردار ادا کیا۔ وائٹ ہاؤس بھی رابطوں میں متحرک رہا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی نمائندے اسٹیو وٹکوف، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی کے درمیان حالیہ دنوں میں متعدد ٹیلی فونک رابطے ہوئے۔
ایرانی قیادت کی منظوری
ذرائع کے مطابق عباس عراقچی نے ہفتے کے آخر میں معاہدے پر اصولی اتفاق کیا تھا۔ بعد ازاں ایران کی اعلیٰ قیادت اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے منگل کے روز اس کی منظوری دے دی۔

