مہران ہائی وے پر بھاری تجارتی گاڑیوں کے لیے ٹول ٹیکس نافذ کرنے کی منظوری دے دی گئی۔ یہ فیصلہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔
ٹول ٹیکس صرف بھاری گاڑیوں پر ہوگا
کابینہ کو بتایا گیا کہ 135 کلومیٹر طویل مہران ہائی وے پر ٹول ٹیکس صرف بھاری اور تجارتی گاڑیوں سے وصول کیا جائے گا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ مہران ہائی وے کو دو رویہ بنانے کا منصوبہ 41 ارب روپے کی لاگت سے جاری ہے۔
آمدنی اور منصوبے کی مالیات
حکام کے مطابق مجوزہ ٹول ٹیکس نظام سے سالانہ تقریباً 2 ارب 14 کروڑ روپے کی مجموعی آمدنی متوقع ہے۔
آپریشنل اخراجات منہا کرنے کے بعد سالانہ ایک ارب 48 کروڑ روپے خالص آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
کابینہ نے گاڑیوں کی مختلف اقسام کے مطابق ٹول ریٹس کی بھی منظوری دے دی۔
وزیراعلیٰ کا مؤقف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت شاہراہوں کی پائیدار دیکھ بھال کے لیے خودکفیل مالیاتی نظام متعارف کرا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے سڑکوں کی دیکھ بھال اور ترقیاتی منصوبوں کو بہتر انداز میں جاری رکھنے میں مدد ملے گی۔
محکمے کا پرانا نام بحال
صوبائی کابینہ نے ورکس اینڈ سروسز ڈیپارٹمنٹ کا روایتی نام بھی بحال کرنے کی منظوری دے دی۔
اس فیصلے کے تحت محکمے کا نام دوبارہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس ڈیپارٹمنٹ رکھا جائے گا۔

