Site icon Tashakur News

شہباز حکومت اتحادی حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں بار بار کیوں ناکام ہوئیں؟

Analysis of repeated predictions about the future of Pakistan's coalition government led by Prime Minister Shehbaz Sharif.

Political debate continues over predictions about Pakistan's coalition government.

فروری 2024 کے عام انتخابات کے بعد مسلم لیگ (ن) کی قیادت میں اتحادی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد سے حکومت کے خاتمے سے متعلق قیاس آرائیاں بار بار سامنے آتی رہی ہیں۔

گزشتہ ڈھائی برس کے دوران مختلف ٹی وی ٹاک شوز، یوٹیوب چینلز اور سیاسی مبصرین نے حکومت کے جلد خاتمے کی پیش گوئیاں کیں۔ تاہم ان میں سے کوئی بھی درست ثابت نہ ہو سکی۔

مختلف ڈیڈ لائنز، مگر نتیجہ ایک جیسا

کبھی 90 دن، کبھی چھ ماہ اور کبھی اس سے زیادہ مدت کا دعویٰ کیا گیا۔ ہر بار کہا گیا کہ حکومت جلد ختم ہو جائے گی۔

جب ایک مدت گزر جاتی تو نئی تاریخ سامنے آ جاتی۔ ان دعوؤں کو کبھی آئی ایم ایف کے جائزے، کبھی بجٹ اور کبھی سیاسی کشیدگی سے جوڑا جاتا۔

نئے صوبوں سے متعلق دعویٰ

حال ہی میں ایک یوٹیوبر نے دعویٰ کیا کہ حکومت کو نئے صوبے بنانے کے لیے چھ ماہ کی مہلت دی گئی ہے۔

آئینی ماہرین اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتے۔ ان کے مطابق نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی ترمیم ضروری ہے۔ اس کے لیے پارلیمنٹ اور متعلقہ صوبائی اسمبلی سے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسا اتفاق رائے موجود نہیں۔ اس لیے اس دعوے کو آئینی حقائق سے ہم آہنگ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

حکومت کے خاتمے کی پیش گوئیاں

2024 کے انتخابات کے بعد بعض مبصرین نے کہا کہ معاشی مشکلات حکومت کو زیادہ دیر نہیں چلنے دیں گی۔

بعد میں آئی ایم ایف کے جائزوں، بجٹ اور اپوزیشن کی تحریکوں کو بھی حکومت کے خاتمے سے جوڑا گیا۔ لیکن ہر مرحلہ گزرنے کے بعد نئی پیش گوئی سامنے آتی رہی۔

سیاسی اختلافات اور حقیقت

پیپلز پارٹی نے حالیہ دنوں میں وفاقی حکومت پر تنقید میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر آزاد کشمیر کے انتخابات کے دوران دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات نمایاں رہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق انتخابی بیانات اور سیاسی اختلافات کا مطلب فوری طور پر حکومت کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ دونوں جماعتیں اب بھی اتحاد برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

ماضی کی پیش گوئیاں بھی درست نہ رہیں

کئی تجزیہ کاروں نے ماضی میں بڑے سیاسی "زلزلوں” کی پیش گوئی کی۔ بعض نے 90 دن میں تبدیلی کا دعویٰ بھی کیا۔

اسی طرح ایک نئے "ونڈر بوائے” کے سامنے آنے کی بات بھی کی گئی۔ تاہم کئی ماہ گزرنے کے باوجود ایسا کچھ نہیں ہوا۔

کچھ حلقوں نے وزیر خزانہ کی برطرفی اور حکومت کے خاتمے کی پیش گوئی بھی کی تھی۔ لیکن حکومت برقرار رہی اور وزیر خزانہ بھی اپنے منصب پر موجود ہیں۔

رپورٹ کا مقصد

اس رپورٹ میں صرف عوامی سطح پر کی گئی پیش گوئیوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں۔

رپورٹ یہ بھی دعویٰ نہیں کرتی کہ حکومت کو سیاسی یا معاشی چیلنجز درپیش نہیں۔ البتہ یہ سوال ضرور اٹھاتی ہے کہ جب پرانی پیش گوئیاں درست ثابت نہیں ہوتیں تو نئی ڈیڈ لائنز بار بار کیوں سامنے آتی ہیں؟

Exit mobile version