Site icon Tashakur News

بی آر ٹی یلو لائن ساڑھے 8 ارب روپے کرپشن کیس میں ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت 12 اگست تک ملتوی

Sindh High Court during the hearing of the BRT Yellow Line corruption case involving former project director Zameer Abbasi.

Sindh High Court hears bail plea in BRT Yellow Line corruption case.

بی آر ٹی یلو لائن منصوبے میں مبینہ ساڑھے آٹھ ارب روپے کرپشن کیس میں سندھ ہائیکورٹ نے سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر ضمیر عباسی کی درخواستِ ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی۔ سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر اپنے دلائل جاری رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی۔

درخواست گزار کے دلائل

درخواست گزار کے وکیل راج علی واحد کنور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ میں سرکاری وکیل نے درخواستِ ضمانت پر نو آبجیکشن دیا تھا۔ ان کے مطابق ضمیر عباسی ایک سینئر بیوروکریٹ اور قابل افسر ہیں۔

وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں خرد برد کا کوئی الزام نہیں۔ ان کے مطابق معاملہ صرف ایڈوانس ادائیگیوں سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ تین کنٹریکٹرز منصوبے میں شامل تھے۔ تاہم کسی کو نہ ملزم بنایا گیا اور نہ ہی گواہ کے طور پر شامل کیا گیا۔

عدالت کے ریمارکس

جسٹس میران محمد شاہ نے استفسار کیا کہ کیا منصوبے میں واقعی خرد برد ہوئی ہے۔ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا مقدمہ سی ایم آئی ٹی کی سفارش پر درج کیا گیا تھا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ اینٹی کرپشن مقدمات میں عام طور پر مدعی تفتیشی افسر ہوتا ہے۔ اس مقدمے میں کوئی براہِ راست متاثرہ فریق بھی سامنے نہیں آیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ ایڈوانس ادائیگی قانون کے مطابق کی گئی۔ ان کے مطابق ضمیر عباسی کی تعیناتی سے پہلے منصوبہ سست روی کا شکار تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب بھی اسی نوعیت کی ادائیگیاں جاری ہیں۔

سرکاری وکیل کا مؤقف

سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ اینٹی کرپشن قوانین کے تحت درج کیا گیا۔ ان کے مطابق ضمیر عباسی کو 22 جون کو گرفتار کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک کو ایڈوانس ادائیگیوں سے متعلق آگاہ نہیں کیا گیا۔ ان کے بقول ان ادائیگیوں کی باقاعدہ منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل مکمل کرنے کی ہدایت دی۔ درخواستِ ضمانت پر مزید سماعت 12 اگست تک ملتوی کر دی گئی۔

Exit mobile version