بہادرآباد واقعہ میں ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر دو گروپوں کے درمیان جھگڑے اور ہوائی فائرنگ کے دو روز گزرنے کے باوجود مقدمہ تاحال درج نہیں ہو سکا۔ پولیس حکام کے مطابق کسی بھی دھڑے نے اب تک ایف آئی آر کے اندراج کے لیے باضابطہ رابطہ نہیں کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اگر کوئی فریق رابطہ کرتا ہے تو فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے گا۔ بصورت دیگر سرکاری مدعیت میں ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
پولیس نے مقدمے کا مسودہ تیار کر لیا
پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے کا متن تیار ہے۔ اعلیٰ حکام کی منظوری ملتے ہی ایف آئی آر درج کر دی جائے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مقدمہ آج درج ہونے کا امکان ہے۔ اس کے بعد زیر حراست افراد کی باقاعدہ گرفتاری بھی ظاہر کی جا سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران واقعے میں مبینہ طور پر ملوث متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان میں کئی اہم شخصیات بھی شامل ہیں۔
جھگڑا کیسے ہوا؟
پولیس کے مطابق اتوار کی شب ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز پر ایک گروپ اجلاس کر رہا تھا۔ اسی دوران دوسرا گروپ وہاں پہنچ گیا۔ دونوں گروپوں کے کارکنوں کے درمیان پہلے ہاتھا پائی ہوئی، پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔ واقعے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
فائرنگ کے دوران ایک شخص ہاتھ پر گولی لگنے سے زخمی ہوا۔ واقعے کے بعد بہادرآباد کی مارکیٹیں اور دکانیں بھی کچھ وقت کے لیے بند رہیں۔
رحمٰن عرف بھولا کی حراست
واقعے کے بعد سانحہ بلدیہ کیس میں حال ہی میں بری ہونے والے رحمٰن عرف بھولا کو نارتھ ناظم آباد میں ان کے گھر سے حراست میں لیا گیا۔ اس کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی سامنے آئی، جس میں سادہ لباس اور پولیس وردی میں اہلکار، سمیت خواتین اہلکار بھی موجود تھیں۔
تاہم رات گئے تک پولیس نے رحمٰن عرف بھولا کی حراست سے متعلق کوئی باضابطہ اعلامیہ جاری نہیں کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق بہادرآباد واقعے کے بعد شہر کے مختلف علاقوں سے ایم کیو ایم پاکستان کے متعدد عہدیداروں اور کارکنوں کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

