ضمیر عباسی سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کراچی کی بی آر ٹی اینٹی کرپشن عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب) کو ان کا جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
نیب کے مطابق ضمیر عباسی سے بورڈ آف ریونیو کے افسران اور دیگر افراد کے خلاف سرکاری اراضی پر مبینہ قبضوں کے معاملے میں تحقیقات جاری ہیں۔ ادارے کا مؤقف ہے کہ ملزم کو کیس سے متعلق اہم حقائق کا علم ہے، اس لیے ان کا بیان تفتیش کے لیے اہم ہے۔
نیب اسلامی ایجوکیشن ٹرسٹ، سحرانپور اور شپ یارڈ ہاؤسنگ سوسائٹی سے متعلق معاملات کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ ادارے کے مطابق سرکاری اور عوامی اراضی پر مبینہ قبضوں، بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ضمیر عباسی اس وقت پہلے ہی بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے سے متعلق مقدمے میں عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ اس مقدمے میں ان پر الزام ہے کہ منصوبے کے ٹھیکیدار کو 8 ارب 50 کروڑ روپے کی پیشگی ادائیگی کی گئی۔

