سمر انٹرن شپ 2026 کے تحت پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل نے پاکستان بھر کے 21 مختلف مراکز میں 6,150 سے زائد طلبہ و طالبات سے خصوصی نشستیں کیں، جن میں قومی سلامتی، معلوماتی جنگ، دہشت گردی، سوشل میڈیا کے ذمہ دارانہ استعمال اور پاکستان کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سیشنز کے دوران طلبہ کو مس انفارمیشن، ڈس انفارمیشن اور پروپیگنڈے کے ذریعے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے مختلف طریقوں سے آگاہ کیا گیا۔ انہیں مستند معلومات کی شناخت، غیر مصدقہ خبروں سے بچنے اور ذمہ دارانہ انداز میں سوشل میڈیا استعمال کرنے کے حوالے سے بھی رہنمائی فراہم کی گئی۔
شرکت کرنے والے طلبہ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر کی تفصیلی گفتگو سے قومی سلامتی سے متعلق مختلف موضوعات پر موجود کئی غلط فہمیاں دور ہوئیں اور انہیں ایسے حقائق سے آگاہی ملی جن سے وہ پہلے واقف نہیں تھے۔
شرکاء نے بتایا کہ آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال، بھارت کے پروپیگنڈے اور پاکستان کے مؤقف پر دی گئی بریفنگ سے انہیں زمینی حقائق کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد ملی۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے بعض طلبہ نے کہا کہ انہیں فتنہ الہندوستان، فتنہ الخوارج، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سے متعلق اپنے سوالات کے مدلل جوابات ملے، جس سے ان کے مختلف ابہامات دور ہوئے۔
طلبہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جامعات میں مستقبل میں بھی ایسے انٹرایکٹو سیشنز کا انعقاد جاری رہنا چاہیے تاکہ درست معلومات کے فروغ، تنقیدی سوچ کے فروغ اور گمراہ کن معلومات کے مؤثر مقابلے میں مدد مل سکے۔

