غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کراچی میں کارروائی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے متعلقہ افسران کو 15 روز میں اپنے اپنے علاقوں کی صورتحال پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مقررہ مدت کے بعد کسی بھی شکایت پر بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے گی۔
یہ فیصلے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیے گئے، جس کی صدارت وزیر بلدیات سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کی۔ اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرلز، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹرز اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزیر بلدیات نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے تمام افسران کو ہدایت کی کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے علاقوں میں غیر قانونی تعمیرات کی تفصیلی رپورٹ جمع کرائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مدت کے بعد اگر کسی علاقے میں غیر قانونی تعمیرات کی شکایت موصول ہوئی تو ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
اجلاس میں نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے صوبائی وزیر کی سطح پر ایک خصوصی ویجیلنس ٹیم قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا، جو روزانہ کی بنیاد پر مانیٹرنگ رپورٹ پیش کرے گی۔ اس کے ساتھ غیر قانونی عمارتوں کے خلاف فوری کارروائی کے لیے خصوصی انہدامی ٹیمیں بھی تشکیل دی جائیں گی۔
عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر ون ونڈو آپریشن کے دائرہ کار کو C-1 سے C-4 تک توسیع دینے کی منظوری دی گئی۔ اب تعمیراتی نقشوں کی منظوری اسی نظام کے تحت دی جائے گی تاکہ شہریوں کو زیادہ آسان اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جا سکیں۔
اجلاس میں شہریوں کے مسائل مقامی سطح پر حل کرنے کے لیے ایس بی سی اے کے افسران کی ٹاؤن کی سطح پر تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ وزیر بلدیات نے ہدایت کی کہ دفاتر آنے والے شہریوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا جائے اور ان کے مسائل کے حل میں مکمل تعاون کیا جائے۔
اجلاس میں ادارے کی قانونی ٹیم کو مزید مضبوط بنانے، کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی (KDA)، ماسٹر پلان اور دیگر متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطہ بہتر کرنے، مخدوش عمارتوں کے متاثرین کے لیے عارضی رہائش کے انتظامات اور نئے بلدیاتی قوانین میں ایس بی سی اے سے متعلق تجاویز شامل کرنے کی بھی منظوری دی گئی۔
اجلاس کے اختتام پر سید ناصر حسین شاہ نے افسران کو ہدایت کی کہ وہ کسی بھی دباؤ یا بلیک میلنگ کے بغیر قانون پر عمل درآمد یقینی بنائیں اور اپنے فرائض دیانت داری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں۔

