سندھ تقسیم کے معاملے پر سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے کہا ہے کہ سندھ پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے ریڈ لائن ہے اور پارٹی نے کبھی بھی صوبے کو انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے کی حمایت نہیں کی، نہ مستقبل میں ایسا کرے گی۔
کراچی میں گفتگو کرتے ہوئے سعدیہ جاوید نے کہا کہ ملک اس وقت مہنگائی اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، ایسے حالات میں مزید انتظامی یونٹس قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں۔ ان کے بقول موجودہ معاشی صورتحال اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ نئے انتظامی ڈھانچے تشکیل دیے جائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ انتظامی یونٹس کا معاملہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کا سیاسی مؤقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال اور وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی کو اپنی وزارتوں کی کارکردگی کے حوالے سے جواب دینا چاہیے اور عوامی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔
ترجمان سندھ حکومت نے کہا کہ کراچی سندھ کا دارالحکومت ہے اور سندھ کی تقسیم پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جہاں پنجاب میں بعض حلقے انتظامی یونٹس کی تقسیم کی بات کرتے ہیں، وہاں سندھ کے عوام ایسی تقسیم نہیں چاہتے۔
سعدیہ جاوید نے کراچی میں جاری ترقیاتی کاموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شہر کے انفراسٹرکچر پر کام جاری ہے، اگرچہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ یونیورسٹی روڈ پر جاری تعمیراتی کاموں کے باعث شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے اور پانی کی فراہمی سمیت دیگر شہری مسائل بھی موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کراچی کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور تمام مسائل کی ذمہ داری موجودہ حکومت پر عائد نہیں کی جا سکتی۔ ان کے مطابق رواں سال کے اختتام تک شہر کی مجموعی صورتحال میں بہتری نظر آئے گی۔
ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے بارے میں سعدیہ جاوید نے کہا کہ منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، جبکہ ریڈ لائن کے مکسڈ لین ٹریک کی تکمیل کی ڈیڈ لائن 31 جولائی مقرر کی گئی ہے۔

