Site icon Tashakur News

آزاد کشمیر الیکشن رانا ثنا اللہ نے کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی پر تنقید، شرجیل میمن نے شفافیت پر سوال اٹھا دیا

PML-N leader Rana Sanaullah and PPP leader Sharjeel Inam Memon comment on the transparency and outcome of the Azad Kashmir election.

Rana Sanaullah and Sharjeel Inam Memon express differing views on the Azad Kashmir election.

آزاد کشمیر الیکشن پر سیاسی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے انتخابی عمل پر اپنے اپنے مؤقف پیش کیے ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر رانا ثنا اللہ نے کالعدم کشمیر ایکشن کمیٹی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعض افراد غیر ضروری ضد پر قائم ہیں۔ ان کے بقول، ایسا طرزِ عمل دشمن کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ میرپور میں پولنگ مجموعی طور پر بہتر رہی۔ انہوں نے کہا کہ عوام جو فیصلہ دیں گے، مسلم لیگ (ن) اسے قبول کرے گی۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی بھی عوامی فیصلے کو تسلیم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر آزاد کشمیر میں نگران حکومت قائم ہوتی تو وزرا وہاں نہیں جا سکتے تھے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی کے الزامات پر بھی ردعمل دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ بلاول بھٹو زرداری یا آصف علی زرداری سے ملاقات میں فارم 47 کا معاملہ اٹھائیں گے۔

دوسری جانب سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے انتخابی شفافیت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے مرحلے کا انتخابی عمل مکمل طور پر شفاف نظر نہیں آیا۔

شرجیل میمن نے کہا کہ نتائج میں تاخیر سے شکوک و شبہات بڑھتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر انتخابات شفاف ہوئے تو پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوگی۔

Exit mobile version