Tashakur News

میڈیکل ٹورازم: پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صحت کے شعبے میں اسٹریٹجک شراکت داری، ایم او یو پر دستخط

میڈیکل ٹورازم کے فروغ اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے بخاری گروپ آف کمپنیز اور ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ نے کراچی میں ایک اسٹریٹجک پارٹنرشپ میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ (ایم او یو) پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان طبی خدمات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور طبی تعلیم کے شعبوں میں مشترکہ اقدامات کو فروغ دینا ہے۔

کراچی میں بخاری گروپ کے ہیڈ آفس میں ہونے والی تقریب میں بخاری گروپ کے گروپ سی ای او بریگیڈیئر (ر) سردار سجاد حسین اور ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر کمال آیدِن نے معاہدے پر دستخط کیے۔ تقریب میں سرکاری حکام، طبی ماہرین، کاروباری شخصیات، ماہرینِ تعلیم، سول سوسائٹی اور قومی و بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں نے شرکت کی۔

تقریب کے مہمانِ خصوصی سندھ حکومت کے منیجنگ ڈائریکٹر ٹورازم فیاض علی شاہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کی بین الاقوامی شراکت داریاں پاکستان کو خطے میں میڈیکل ٹورازم کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرانے، غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھانے اور صحت کی معیاری سہولتوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ کے صدر ڈاکٹر کمال آیدِن نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داری صرف میڈیکل ٹورازم تک محدود نہیں بلکہ سائنسی تحقیق، صحت مند بڑھاپے، ہیلتھ ڈپلومیسی، طبی جدت اور پائیدار ترقی کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرے گی۔

بخاری گروپ کے گروپ سی ای او بریگیڈیئر (ر) سردار سجاد حسین نے کہا کہ ان کا ادارہ پاکستان کو میڈیکل ٹورازم اور صحت کی جدت کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابنِ سینا انسٹی ٹیوٹ کے ساتھ تعاون کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان طبی، معاشی اور سائنسی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

معاہدے کے تحت پاکستان–ترکیہ میڈیکل ٹورازم کوریڈور، صحت مند بڑھاپے اور طویل عمری کے پروگرام، ٹیلی میڈیسن، ڈیجیٹل ہیلتھ، مصنوعی ذہانت، طبی تحقیق، پیشہ ورانہ تربیت، تعلیمی تبادلوں، مشترکہ سرمایہ کاری، بین الاقوامی کانفرنسوں اور عمر دوست سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

دونوں اداروں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ شراکت داری طبی مہارت کے تبادلے، صحت کے شعبے میں جدت، سرمایہ کاری کے فروغ اور پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگی، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صحت اور معاشی تعاون کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔

Exit mobile version