Site icon Tashakur News

زرعی آمدن ٹیکس سندھ حکومت نے ریکارڈ فریم ورک اور طریقہ کار کی منظوری دے دی

Sindh Interior Minister Zia Ul Hassan Lanjar chairs a meeting on the implementation of the Agriculture Income Tax Act 2025 in Karachi.

Sindh officials review the implementation of the Agriculture Income Tax Act 2025 during a cabinet committee meeting.

زرعی آمدن ٹیکس سے متعلق سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت وزیر داخلہ سندھ ضیاء الحسن لنجار نے کی۔

اجلاس سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم نمبر 2 میں ہوا۔

اجلاس میں صوبائی وزیر ورکس اینڈ سروسز و جیل خانہ جات حاجی علی حسن زرداری، صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ، سندھ ریونیو بورڈ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

ریکارڈ فریم ورک کی منظوری

اجلاس میں زرعی آمدن ٹیکس ایکٹ 2025 کے سیکشن 16 پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔

زرعی آمدن ٹیکس کے ریکارڈ مینٹیننس فریم ورک پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔

وزیر داخلہ سندھ نے ریکارڈ کے پروفارما اور طریقہ کار کی منظوری دے دی۔

لینڈ اونرشپ، لیز اور متعلقہ دستاویزات کے مجوزہ فریم ورک کی بھی منظوری دی گئی۔

شفافیت پر زور

ضیاء الحسن لنجار نے ہدایت کی کہ ہر فصل کے حساب سے زرعی آمدن کا مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے شفافیت اور مؤثر نگرانی کو فروغ ملے گا۔

انہوں نے فصلوں کی فروخت سے متعلق رسیدیں محفوظ رکھنے کی بھی ہدایت دی۔

ان کے مطابق مکمل ریکارڈ ٹیکس کی تصدیق میں مدد دے گا۔

ڈیجیٹل نظام اور آڈٹ

وزیر داخلہ سندھ نے کہا کہ زرعی آمدن ٹیکس کے ریکارڈ کو ڈیجیٹل اور دستاویزی بنیادوں پر منظم کیا جائے۔

انہوں نے ہدایت کی کہ اگر زرعی سرگرمیاں کسی کمپنی کے ذریعے چلائی جا رہی ہوں تو مالیاتی کھاتوں کا سالانہ آڈٹ بھی کرایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ مؤثر، شفاف اور قابلِ اعتماد ٹیکس نظام حکومت سندھ کی ترجیحات میں شامل ہے۔

عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایت

اجلاس میں چیئرمین سندھ ریونیو بورڈ نے سندھ ایگریکلچر انکم ٹیکس رولز 2025 پر بریفنگ دی۔

وزیر داخلہ سندھ نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ محکمے باہمی رابطے سے قانون پر بروقت عملدرآمد یقینی بنائیں۔

انہوں نے زرعی آمدن ٹیکس ایکٹ میں درکار ترامیم کی سفارشات بھی جلد پیش کرنے کی ہدایت کی۔

Exit mobile version