Site icon Tashakur News

سندھ کابینہ: گٹکا اور ماوا کے خلاف سخت قانون سازی، سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج منظور

سندھ کابینہ نے گٹکا، ماوا اور مین پوری کی تیاری، فروخت اور نقل و حمل کے خلاف سخت قانون سازی کی منظوری دے دی ہے، جبکہ ان جرائم کی سزائیں مزید سخت کرنے کی تجویز بھی منظور کر لی گئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا کہ صوبے بھر میں گٹکا، ماوا اور مین پوری بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان اشیا کے استعمال سے بڑی تعداد میں نوجوان منہ کے کینسر جیسے مہلک مرض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کو بھی متعلقہ اختیارات دیے جائیں گے تاکہ نئے قانون پر مؤثر انداز میں عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف پیکیج کی بھی منظوری دی ہے۔ اس کے تحت گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو 2022 کی منجمد بنیادی تنخواہ پر دو فیصد ڈیفرینشل الاؤنس دیا جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تمام صوبائی سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں 50 فیصد اضافہ منظور کیا گیا ہے، جبکہ خصوصی افراد کے لیے اسپیشل کنوینس الاؤنس 6 ہزار روپے سے بڑھا کر 10 ہزار روپے ماہانہ کر دیا گیا ہے۔ تمام نئے الاؤنسز کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔

وزیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت 6 لاکھ 65 ہزار میٹرک ٹن گندم پاسکو سے خریدے گی، جبکہ 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں ہیوی ٹریفک کے مسئلے کے حل کے لیے ناردرن بائی پاس پر 400 ایکڑ پر مشتمل جدید ٹرک اسٹینڈ قائم کیا جائے گا، جس کا مقصد ٹریفک کا دباؤ اور حادثات میں کمی لانا ہے۔

شرجیل انعام میمن کے مطابق کابینہ نے کنری مرچ منڈی کے لیے 22 ایکڑ اراضی مختص کرنے، ڈملوٹی واٹر لائن منصوبے کی نظرثانی شدہ لاگت، چین میں عالمی فورم میں شرکت، اور آبی مسائل، موسمیاتی تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق ٹاسک فورسز کے قیام کی بھی منظوری دی ہے۔

پریس کانفرنس کے دوران وزیر اطلاعات سندھ نے آزاد کشمیر کے انتخابات، پنجاب حکومت، بارشوں کی صورتحال اور وفاقی حکومت سے متعلق مختلف سیاسی معاملات پر بھی اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔

Exit mobile version