نادرا فراڈ کیس میں گرفتار افسران سے تفتیش کے دوران اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے۔
تفتیش میں کیا انکشاف ہوا؟
ذرائع کے مطابق گرفتار افسران نے اعتراف کیا کہ 100 سے زائد غیرملکیوں کے پاکستانی شناختی کارڈز پراسیس کیے گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مطلوبہ دستاویزات ایک نجی ایجنٹ فراہم کرتا تھا۔
ان دستاویزات میں پیدائش، وفات اور شادی کے سرٹیفکیٹس شامل تھے۔
والدین کے قومی شناختی کارڈز بھی ریکارڈ کا حصہ بنائے جاتے تھے۔
رقوم کی وصولی کا الزام
ذرائع کے مطابق سابق نادرا ملازم راؤ زاہد دستاویزات آگے بھجواتا تھا۔
الزام ہے کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جہانزیب میمن تجزیے کے لیے ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے وصول کرتا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ رقم فیاض احمد معمر شاہ اور راؤ زاہد کے ذریعے پہنچائی جاتی تھی۔
مزید ملزمان کی تحقیقات
ایف آئی اے کے مطابق ملزم فیاض احمد نے چند مشتبہ شناختی کارڈز پراسیس کرنے کا بھی انکشاف کیا۔
تلاشی کے دوران ملزم سے موبائل فون اور دیگر متعلقہ مواد برآمد کیا گیا۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ دیگر مشتبہ افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
عدالت میں پیشی
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں چار ملزمان کو پیش کیا گیا۔
ملزمان میں انعام الحق، فیاض احمد سانگی، جنید اور محمد عمر شامل ہیں۔
عدالت نے چاروں ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
ایف آئی اے کا مؤقف
ایف آئی اے کے مطابق ملزمان افغان شہریوں کے لیے جعلی شناختی دستاویزات تیار کرتے تھے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ملزمان پر ریکارڈ میں ردوبدل کا بھی الزام ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق تحقیقات میں بعض ملزمان کے مبینہ دہشت گرد عناصر سے روابط کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

