کراچی میں سی ٹی ڈی نے مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی کے مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرا دیا۔ چالان کے مطابق ملزمہ کے خلاف 21 مقدمات درج ہیں۔
عدالت میں جمع کرائے گئے ریکارڈ کے مطابق انمول عرف منزہ عرف پنکی، اس کے بھائی ناصر، عین اللہ اور میسر علی عرف عاطف کو مقدمے میں گرفتار ظاہر کیا گیا ہے۔
منشیات برآمد، نیٹ ورک سے متعلق دعوے
چالان کے مطابق پولیس نے اختر کالونی میں کارروائی کے دوران ملزمان کو گرفتار کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان کے قبضے سے چرس اور کوکین برآمد ہوئی۔
تفتیشی دستاویز کے مطابق میسر علی نے بیان دیا کہ وہ عامر کے ذریعے پنکی کے لیے کام کرتا تھا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ عامر نے اس کی فون پر پنکی سے بات کرائی تھی۔
تفتیش جاری، 14 گواہوں کے نام شامل
چالان میں کہا گیا ہے کہ ملزمان نے دعویٰ کیا کہ وہ کراچی کے مختلف علاقوں میں منشیات سپلائی کرتے تھے۔ ان کے مطابق ایک گرام منشیات کی قیمت 12 سے 15 ہزار روپے مقرر کی جاتی تھی۔
تفتیشی افسر نے ان بیانات کے بعد وومن جیل میں قید انمول عرف پنکی سے بھی تفتیش کی۔ چالان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمہ نے مبینہ طور پر نیٹ ورک کی سربراہی کا اعتراف کیا، جس کے بعد پولیس نے اسے اس مقدمے میں بھی گرفتار کر لیا۔
عبوری چالان کے مطابق ناصر نے بتایا کہ انمول عرف پنکی اس کی سگی بہن ہے۔ مقدمہ 18 نومبر 2018 کو درج ہوا تھا۔ چالان میں تفتیشی افسر سمیت 14 گواہوں کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔

