Tashakur News

ایس بی سی اے: آباد اور ڈی جی کے درمیان اصلاحات پر اتفاق، غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان

کراچی: ایس بی سی اے اور ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) نے تعمیراتی شعبے میں اصلاحات، شفافیت اور باہمی تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔ اس موقع پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔

یہ اتفاق آباد ہاؤس میں منعقدہ ایک اجلاس میں ہوا، جہاں آباد کے چیئرمین محمد حسن بخشی نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر وسیم شمشاد علی اور دیگر عہدیداروں کی میزبانی کی۔ اجلاس میں آباد کے سینئر وائس چیئرمین

میٹرک بورڈ: چیئرمین مشرف علی راجپوت کو شفاف نتائج پر شیلڈ پیش، نویں جماعت کے نتائج جلد جاری کرنے کا اعلانسید افضل حمید، وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی، سابق چیئرمین جنید اشرف تالو اور دیگر ارکان بھی شریک ہوئے۔

تعمیراتی شعبے کے مسائل پر گفتگو

اجلاس میں کراچی میں بلڈنگ پلان کی منظوری، غیر قانونی تعمیرات، ریگولیٹری اصلاحات اور بلڈرز کو درپیش مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈی جی ایس بی سی اے ڈاکٹر وسیم شمشاد علی نے کہا کہ شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلاف ضابطہ تعمیرات کے خلاف قانون کے مطابق بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بلڈرز اور سرمایہ کار شہری ترقی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے قانونی تعمیراتی منصوبوں کی منظوری کے عمل کو مزید شفاف اور آسان بنایا جا رہا ہے۔

نیا انسپیکشن سسٹم متعارف کرانے کا اعلان

ڈی جی ایس بی سی اے نے بتایا کہ ادارہ پوسٹ اپروول انسپیکشن سسٹم متعارف کرا رہا ہے۔ ان کے مطابق اس نظام سے تعمیراتی منصوبوں کی نگرانی مزید مؤثر ہوگی اور بلڈرز کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ادارہ جدید نظام کے ذریعے شفافیت بڑھانے اور اپنی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اصلاحاتی اقدامات پر تیزی سے عمل کر رہا ہے۔

اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ محفوظ، معیاری اور قانونی تعمیرات کے فروغ کے لیے ایس بی سی اے اور آباد کے درمیان تعاون مزید مضبوط کیا جائے گا۔

جمشید کوارٹرز پلاٹ کیس کی تحقیقات

دوسری جانب چیئرمین آباد کی شکایت پر میئر کراچی نے جمشید کوارٹرز کے پلاٹ نمبر JM-930 سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا نوٹس لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے حکمِ امتناع کے باوجود مبینہ طور پر این او سی جاری کیے جانے کے معاملے پر شکایت سامنے آئی تھی۔ شکایت میں الزام لگایا گیا کہ بعض افسران نے جعلی سیل ڈیڈ کی بنیاد پر اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔

میئر کراچی کی ہدایت پر کے ایم سی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ انتظامیہ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر حافظ مغیرہ اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر نعیم الحق کو معطل کر دیا ہے۔ دونوں افسران کو شوکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے ہیں۔

تعمیراتی شعبے سے وابستہ حلقوں نے امید ظاہر کی کہ اصلاحاتی اقدامات، جدید انسپیکشن نظام اور احتساب کے عمل سے کراچی میں شفاف اور قانون کے مطابق تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

Exit mobile version