امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت وزیراعلیٰ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، آئی جی سندھ غلام نبی میمن، سیکریٹری داخلہ اقبال میمن اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ امن و امان پر کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں، منشیات فروشوں، بھتہ خوروں اور دیگر جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔
جرائم میں نمایاں کمی
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ 2026 کے پہلے چھ ماہ کے دوران سندھ میں سنگین جرائم، دہشت گردی اور اسٹریٹ کرائم میں نمایاں کمی ریکارڈ ہوئی۔ حکام کے مطابق انٹیلی جنس بیسڈ پولیسنگ، ہدفی کارروائیوں اور اداروں کے باہمی تعاون سے سیکیورٹی صورتحال بہتر ہوئی۔
جنوری سے جون 2026 کے دوران قتل کے واقعات میں 17.3 فیصد کمی آئی۔ قتل کے ساتھ ڈکیتی کے واقعات 19.4 فیصد کم ہوئے۔ زخمی کرنے والی ڈکیتی میں 25.4 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ ڈکیتی اور رہزنی کے واقعات بھی 18.9 فیصد کم ہوئے۔
کار چھیننے کے واقعات میں 23.9 فیصد کمی آئی۔ موٹرسائیکل چھیننے کے کیسز 31.1 فیصد کم ہوئے۔ موٹرسائیکل چوری کے واقعات میں بھی 22.1 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں مجموعی اسٹریٹ کرائم 11.77 فیصد کم ہوا۔ ڈکیتی کے دوران اموات میں 38.3 فیصد کمی آئی۔ زخمی ہونے کے واقعات بھی 39.1 فیصد کم ہوئے۔ گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں چھیننے کے واقعات میں بھی نمایاں کمی سامنے آئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے موبائل فون چھیننے کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے ہدایت دی کہ اسٹریٹ کرائم کے ہاٹ اسپاٹس کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں۔
پولیس آپریشنز اور انسدادِ منشیات
پولیس نے اجلاس کو بتایا کہ رواں سال کے پہلے چھ ماہ میں 2,184 پولیس مقابلے ہوئے۔ سندھ پولیس نے 1,087 جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا۔ کارروائیوں میں 187 خطرناک ملزمان ہلاک ہوئے جبکہ ہزاروں مشتبہ افراد گرفتار ہوئے۔ پولیس نے بڑی مقدار میں غیر قانونی اسلحہ بھی برآمد کیا۔
انسدادِ منشیات مہم کے دوران 7,027 چھاپے مارے گئے۔ پولیس نے 9,096 ملزمان گرفتار کیے۔ اس عرصے میں 7,468 مقدمات بھی درج ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران ہیروئن، چرس، آئس اور شراب کی بڑی مقدار برآمد ہوئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے تعلیمی اداروں کے اطراف منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنانے کی ہدایت دی۔
دہشت گردی اور کچے کے علاقوں میں کارروائیاں
سی ٹی ڈی نے بریفنگ میں بتایا کہ 2026 کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 75 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔ محکمہ نے 777 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں میں 355 دہشت گرد اور جرائم پیشہ عناصر گرفتار ہوئے۔ کارروائیوں کے دوران اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی میں بھتہ خوری کے 81 فیصد مقدمات ٹریس کیے گئے۔ کئی جرائم پیشہ گروہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ متعدد ملزمان گرفتار ہوئے جبکہ بیرون ملک مفرور ملزمان کے خلاف چار ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے۔
حکام نے آپریشن نجاتِ مہران پر بھی بریفنگ دی۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران کچے کے علاقوں میں 141 پولیس مقابلے ہوئے۔ کارروائیوں میں 275 ڈاکو ہلاک ہوئے۔ سیکڑوں گرفتاریاں ہوئیں، مغوی بازیاب ہوئے اور بھاری اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔
سیف سٹی اور سرحدی نگرانی
اجلاس کو کراچی سیف سٹی منصوبے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں 1,325 جدید کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔ سندھ اسمارٹ سرویلنس سسٹم کے تحت 40 ٹول پلازوں پر 381 کیمرے لگائے گئے ہیں۔ اس نظام کی مدد سے 496 ملزمان گرفتار اور 349 گاڑیاں ضبط کی جا چکی ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے کام جاری رکھیں۔ انہوں نے بین الصوبائی سرحدوں، ساحلی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر نگرانی مزید سخت کرنے کی ہدایت بھی دی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں امن، استحکام اور شہریوں کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے۔

