Site icon Tashakur News

ڈاکٹر آکاش قتل کیس: ملزمان کے اہم انکشافات، بینکوں کے باہر ڈکیتیوں میں ملوث ہونے کا اعتراف

ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار ملزمان نے ابتدائی تفتیش کے دوران اہم انکشافات کیے ہیں۔ پولیس کے مطابق ملزمان نے بینکوں کے باہر ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے، جبکہ کیس میں مزید ملزمان کی گرفتاری اور چھینی گئی رقم کی برآمدگی کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔

پولیس کے مطابق 13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا تھا۔ اس مقدمے میں گرفتار اسلم عرف بابا، رام چند اور انیل سے تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ گینگ قائد آباد کا رہائشی ہے اور واردات میں ایک خاتون بھی شریک تھی۔ ملزمان نے واردات کے بعد لوٹی گئی رقم آپس میں تقسیم کر لی تھی۔

تفتیشی حکام کے مطابق گرفتار ملزم رام چند نے بتایا کہ اس کی اسلم عرف بابا سے 2021 میں لانڈھی جیل میں ملاقات ہوئی، جہاں دونوں نے گینگ تشکیل دیا۔ اس نے یہ بھی اعتراف کیا کہ گینگ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران بینکوں کے باہر تین ڈکیتیاں کر چکا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم انیل پہلے بھی ملیر پولیس کو مطلوب تھا۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے چند ماہ قبل شاہ لطیف ٹاؤن میں ایک تاجر سے ایک کروڑ روپے لوٹے تھے۔ اس کیس میں اس کے دو ساتھی پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں، جن سے 50 لاکھ روپے برآمد کیے گئے تھے۔ حکام کے مطابق انیل اور رام چند سمیت سات رکنی گینگ رقم چھیننے کی متعدد وارداتوں میں ملوث رہا ہے۔

دوسری جانب جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے ابتدائی تفتیشی رپورٹ جمع کرائی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑکی سمیت تین ملزمان اب بھی مفرور ہیں، جبکہ ڈاکٹر آکاش سے چھینی گئی 20 لاکھ روپے کی رقم تاحال برآمد نہیں ہو سکی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق گرفتار ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے بینک سے رقم نکلوانے والے شخص کو لوٹنے کی کوشش کی۔ اس دوران وہاں موجود سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کی، جس کے جواب میں ملزمان نے بھی فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ ان کی فائرنگ سے ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہو گئے تھے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزمان کی نشاندہی پر اسلم پنہور، ایک خاتون اور ایک اور مفرور ملزم کو گرفتار کرنا باقی ہے۔ پولیس کو چھینی گئی 20 لاکھ روپے کی رقم کی برآمدگی، ملزمان کی شناخت پریڈ اور دیگر مقدمات میں بھی ان سے مزید تفتیش کرنا ہے۔

Exit mobile version