سندھ پولیس ری اسٹرکچرنگ کے عمل کو تیز کرنے کے لیے انسپکٹر جنرل سندھ جاوید عالم اوڈھو کی زیر صدارت سنٹرل پولیس آفس کراچی میں اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پولیس کے مختلف شعبوں کی تنظیمِ نو، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، استعداد کار میں اضافے اور مستقبل کی اصلاحات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایڈیشنل آئی جیز سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، آپریشنز، ڈی آئی جیز ہیڈکوارٹرز، کرائم اینڈ انویسٹی گیشن، اسٹیبلشمنٹ، آئی ٹی، سی آئی اے، ٹریننگ، اے آئی جیز اور ایس ایس پی میڈیا اینڈ پبلک ریلیشنز نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران ایڈیشنل آئی جیز سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ اور ڈی آئی جی کرائم اینڈ انویسٹی گیشن نے اپنے اپنے شعبوں کے موجودہ ڈھانچے، ری اسٹرکچرنگ، استعداد کار اور آئندہ اصلاحاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کہا کہ سندھ پولیس کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مرحلہ وار جدید ٹیکنالوجی متعارف کرانا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال کے ساتھ اسکل بیسڈ افسران اور عملے کی ضرورت بھی بڑھے گی، اس لیے مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی تعیناتی، پیشہ ورانہ تربیت اور استعداد بڑھانے کے لیے ری اسٹرکچرنگ ناگزیر ہے۔
انہوں نے ہدایت دی کہ ایڈیشنل آئی جیز اور دیگر سینئر افسران پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے، جو مختلف شعبوں میں ری اسٹرکچرنگ، ٹریننگ، کیپیسٹی بلڈنگ اور دیگر انتظامی امور پر جامع رپورٹ تیار کرے۔ کمیٹی تمام شعبوں کی مجوزہ اصلاحات کا جائزہ لینے کے ساتھ مختلف تجاویز کو یکجا کر کے قابلِ عمل سفارشات بھی پیش کرے گی۔
آئی جی سندھ نے کہا کہ سندھ پولیس کی ری اسٹرکچرنگ بین الاقوامی معیار کے مطابق کی جائے گی تاکہ ادارے میں مستقل سروس اسٹرکچر اور واضح کیریئر پاتھ متعارف کرایا جا سکے۔ ان کے مطابق اس اقدام سے سروس ڈلیوری، ادارہ جاتی کارکردگی اور عوامی اعتماد میں نمایاں بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ بدلتے ہوئے سیکیورٹی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی، پیشہ ورانہ مہارت اور مضبوط ادارہ جاتی اصلاحات کو ترجیح دی جائے گی تاکہ سندھ پولیس کو ایک جدید، مؤثر، عوام دوست اور بین الاقوامی معیار کی قانون نافذ کرنے والی فورس بنایا جا سکے۔

