زراعت کے شعبے میں جدید مہارتوں کے فروغ کے لیے وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال بھی ایک ہزار طلبہ کو حکومتی خرچ پر چین بھیجا جائے گا تاکہ وہ لائیو اسٹاک اور زراعت کے شعبوں میں جدید تربیت حاصل کر سکیں۔
اسلام آباد میں لائیو اسٹاک کی استعداد سے متعلق قومی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے کسان چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں شب و روز محنت کر رہے ہیں، تاہم جدید مشینری اور ٹیکنالوجی کی کمی کے باعث ملک اس شعبے میں خطے کے دیگر ممالک سے پیچھے ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے اور دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے، جبکہ گوشت کی پیداوار میں بھی وسیع امکانات موجود ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ماضی میں زراعت اور لائیو اسٹاک کے فروغ کے لیے کئی ادارے قائم کیے گئے، لیکن بدانتظامی اور اقربا پروری کے باعث وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کو باہمی تعاون کے ساتھ عملی اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ان شعبوں کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت زراعت اور لائیو اسٹاک میں جدت لانے کے لیے چین کے تعاون سے استفادہ کر رہی ہے اور اگر ان شعبوں پر مؤثر انداز میں توجہ دی جائے تو ملکی معیشت میں نمایاں بہتری آ سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لائیو اسٹاک سے وابستہ افراد نے ایک بیماری کی ویکسین کی عدم دستیابی کا مسئلہ اٹھایا، جس پر حکومت نے ویکسین کی تیاری یا فراہمی کے لیے مکمل مالی تعاون فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس شعبے کو بہتر نتائج کے لیے آؤٹ سورس بھی کیا جائے گا تاکہ ماضی کی خامیوں سے بچا جا سکے۔
وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال ایک ہزار طلبہ کو چین میں تربیت کے لیے بھیجا گیا تھا اور اب رواں سال بھی مزید ایک ہزار طلبہ کو اسی مقصد کے لیے بھیجا جائے گا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تربیت مکمل کر کے واپس آنے والے نوجوانوں کے تجربات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جامع حکمت عملی تیار کی جائے تاکہ زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبوں میں عملی بہتری لائی جا سکے۔

