Site icon Tashakur News

ولیکا اسپتال: سعید غنی کا 10,500 افراد کی اسکریننگ، 120 ایچ آئی وی کیسز اور 2 ارب روپے فنڈ کا اعلان

وزیر محنت، افرادی قوت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی نے کہا ہے کہ ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کیسز سامنے آنے کے بعد حکومت نے فوری اقدامات کیے اور اکتوبر 2025 میں رپورٹ موصول ہوتے ہی تحقیقات، اسکریننگ اور علاج کا عمل شروع کر دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک ولیکا اسپتال اور اطراف کے علاقوں میں 10 ہزار 500 سے زائد افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جن میں 120 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعید غنی نے کہا کہ متاثرہ بچوں کا علاج انڈس اسپتال، آغا خان یونیورسٹی اسپتال، ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سمیت پانچ مختلف طبی مراکز میں جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ ایچ آئی وی کنٹرول ایکٹ 2006 کے تحت متاثرہ بچوں اور ان کے خاندانوں کی شناخت خفیہ رکھنا قانونی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ 22 اکتوبر 2025 کو اسپتال انتظامیہ نے محکمہ صحت کے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کو آگاہ کیا، جس کے اگلے روز ہی بچوں کی اسکریننگ شروع کر دی گئی۔ بعد ازاں تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی، جس نے اپنی ابتدائی رپورٹ 6 نومبر 2025 کو پیش کی۔

سعید غنی کے مطابق ابتدائی رپورٹ میں 16 بچوں میں ایچ آئی وی کی تصدیق اور دو اموات کا ذکر کیا گیا تھا، جبکہ بعد میں ہونے والی تحقیقات میں 78 تصدیق شدہ کیسز اور چھ اموات رپورٹ ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ انکوائری رپورٹ کی بنیاد پر اسپتال کے 37 ڈاکٹروں اور ملازمین کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں، جبکہ ذمہ دار افراد کے خلاف ملازمت سے برطرفی، ایف آئی آر اور قانونی کارروائی بھی کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ 8 جولائی کو سیسی کی گورننگ باڈی نے متاثرہ بچوں کے علاج، بحالی اور فلاح و بہبود کے لیے 2 ارب روپے کے اینڈومنٹ فنڈ کی منظوری دی۔ اس فنڈ کی نگرانی کے لیے ماہر ڈاکٹروں اور متعلقہ شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ایک اسٹینڈنگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔

سعید غنی نے واضح کیا کہ حکومت متاثرین کی تعداد بڑھنے کے خدشے کے باوجود اسکریننگ کا عمل نہیں روکے گی۔ ان کے مطابق اگر مزید کیسز سامنے آتے ہیں تو حکومت ان کے علاج اور متاثرہ خاندانوں کی معاونت کی بھی ذمہ داری اٹھائے گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ لانڈھی سوشل سیکیورٹی اسپتال میں بھی دو ہزار افراد کی اسکریننگ کی جا چکی ہے، جہاں 10 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ طبی فضلے کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کا نظام موجود ہے، تاہم اس پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔

پریس کانفرنس میں آغا خان یونیورسٹی اسپتال کے ڈاکٹر فیصل محمود نے کہا کہ ایچ آئی وی کے کیسز صرف ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ مختلف علاقوں سے بھی رپورٹ ہو رہے ہیں، جبکہ نجی کلینکس میں حفاظتی طبی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ انڈس اسپتال کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ پاکستان میں ایچ آئی وی اور ہیپاٹائٹس سی کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نمٹنے کے لیے حکومت اور طبی ادارے مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔

Exit mobile version