Site icon Tashakur News

گواہ کا بیان سپریم کورٹ کا اہم فیصلہ، غلط عدالتی ریکارڈنگ پر ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم

The Supreme Court of Pakistan issues a landmark ruling on accurate witness statement recording and fair trial rights.

Supreme Court orders correction of witness statements to ensure a fair trial.

گواہ کا بیان درست طور پر ریکارڈ کرنے سے متعلق سپریم کورٹ نے اہم فیصلہ سناتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے احکامات کالعدم قرار دے دیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ منصفانہ ٹرائل کے لیے درست عدالتی ریکارڈ ناگزیر ہے۔

عدالت کے اہم ریمارکس

سپریم کورٹ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ گواہ کا بیان لفظ بہ لفظ ریکارڈ کرے۔ عدالت کے مطابق ویڈیو بیان اور تحریری ریکارڈ میں تضاد کی صورت میں درست اندراج کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت دی کہ ویڈیو اور تحریری بیان کا موازنہ کیا جائے۔ بیان میں موجود غلطیوں کی 15 روز کے اندر تصحیح کی جائے۔

سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا کہ تصحیح کے بعد مقدمہ 30 ورکنگ دنوں میں نمٹایا جائے۔ عدالت نے کہا کہ فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 360(2) پر عمل نہ کرنا غیرقانونی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ گواہ کے اعتراضات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ گواہ کا اصل بیان ہی عدالتی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے۔ ویڈیو ریکارڈنگ کو اصل شہادت سے مطابقت جانچنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

عدالت نے مزید کہا کہ آئین کے آرٹیکل 10 اے کے تحت شفاف اور منصفانہ ٹرائل ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ عدالتیں محض تکنیکی بنیادوں پر انصاف سے انکار نہیں کر سکتیں۔

مقدمے کا پس منظر

یہ فیصلہ صنم عمرانی ایڈووکیٹ کے قتل کیس میں چشم دید گواہ نایاب عمرانی کی درخواست پر دیا گیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ ماڈل کورٹ حیدرآباد نے ویڈیو لنک پر ان کا بیان غلط ریکارڈ کیا۔ بیان اسلام آباد ای کورٹ کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا تھا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ٹرائل کے دوران قتل کے وقوعے کی تاریخ بھی غلط درج کی گئی۔ نایاب عمرانی نے پہلے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ مطلوبہ ریلیف نہ ملنے پر انہوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔

Exit mobile version