گل پلازہ کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی عاصم اسلم نے پولیس کی جانب سے جمع کرایا گیا چالان مسترد کرتے ہوئے ازسرنو تحقیقات کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ڈی ایس پی رینک کے افسر کو نیا تفتیشی افسر مقرر کرنے اور 15 روز کے اندر مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں سانحہ گل پلازہ کیس کی سماعت کے دوران ملزمان تنویر پاستا اور دیگر عدالت میں پیش ہوئے، جبکہ سرکاری وکیل عارف ستائی نے مؤقف اختیار کیا کہ پراسیکیوشن نے پولیس کے چالان پر تین مرتبہ اعتراضات عائد کرکے اسے واپس بھیجا تھا۔ سماعت کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا کہ پراسیکیوشن کا اسکروٹنی نوٹ پولیس فائل کا حصہ نہیں تھا۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے متعدد سوالات کیے اور ریمارکس دیے کہ تفتیش میں متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار اور ممکنہ غفلت کا مؤثر جائزہ نہیں لیا گیا۔ عدالت نے کہا کہ صرف آگ لگنے کی وجہ جاننا کافی نہیں بلکہ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ ریسکیو کارروائی میں تاخیر کیوں ہوئی اور اتنی بڑی تعداد میں جانی نقصان کیسے ہوا۔
عدالت نے تفتیشی افسر پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی ادارے کی مجرمانہ غفلت سامنے آتی ہے تو اسے تفتیش کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ تفتیش میں ایس بی سی اے، سول ڈیفنس، فائر بریگیڈ، ریسکیو 1122، کے ایم سی، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے کردار کا جامع جائزہ نہیں لیا گیا۔
عدالت نے حکم دیا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے)، سول ڈیفنس، ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ، کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی)، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے متعلقہ افسران کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں اور ہر ادارے کی ذمہ داری، کردار اور ممکنہ غفلت کا تعین کیا جائے۔
عدالت نے مزید ہدایت کی کہ کمشنر کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ سمیت تمام متعلقہ شواہد کو تفتیش کا حصہ بنایا جائے اور 15 روز کے اندر ازسرنو تحقیقات مکمل کرکے پیش رفت رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔

