Site icon Tashakur News

ایف 35: ٹرمپ کا ترکیے کو لڑاکا طیاروں کی فروخت پر غور، اردوان سے ملاقات میں علاقائی سلامتی پر تبادلہ خیال

ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ممکنہ فروخت، مشرق وسطیٰ کی صورتحال، ایران، روس۔یوکرین جنگ اور دوطرفہ تعلقات امریکی صدر Donald Trump اور ترک صدر Recep Tayyip Erdoğan کی ملاقات کے دوران اہم موضوعات رہے۔

Donald Trump نیٹو اجلاس میں شرکت کے لیے Ankara پہنچے، جہاں Recep Tayyip Erdoğan نے ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کیا۔ دونوں رہنماؤں نے صدارتی محل میں ملاقات کے بعد مشترکہ امور پر میڈیا سے گفتگو کی۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کے اور ترک صدر کے درمیان مضبوط تعلقات ہیں اور دونوں ممالک تجارت کے فروغ کے لیے بھی بات چیت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کئی حلقوں کی رائے ہے کہ ترکیے کو ایف 35 لڑاکا طیارے خریدنے کی اجازت دی جانی چاہیے، جبکہ امریکا اس معاملے پر غور کر رہا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ترکیے ایران کو اچھی طرح سمجھتا ہے اور اس نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے روس اور یوکرین کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں دونوں ممالک مذاکرات کے خواہاں ہیں اور جنگ کے خاتمے کا امکان موجود ہے۔

نیٹو کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ اتحاد سے انہیں مایوسی ہوئی، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا نے یورپ کے دفاع کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اجلاس ترکیے میں منعقد نہ ہوتا اور ان کے بقول وہاں ان کے "دوست” موجود نہ ہوتے تو شاید وہ اس میں شرکت نہ کرتے۔

ترک صدر Recep Tayyip Erdoğan نے کہا کہ ایف 35 پروگرام کا معاملہ نیا نہیں اور اس حوالے سے امریکا سے پہلے بھی متعدد بار بات چیت ہو چکی ہے۔ ان کے مطابق امریکا نے ترکیے کو پانچ لڑاکا طیاروں کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا، اور انہیں امید ہے کہ نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران اس معاملے میں مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

غزہ کی صورتحال پر ترک صدر نے کہا کہ ترکیہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور نیٹو اجلاس میں بھی اس معاملے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے نتیجے میں مثبت پیش رفت ہوگی۔

ایران اور امریکا کے تعلقات سے متعلق سوال پر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ دونوں ممالک کو مشترکہ مؤقف کے قریب لانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے اور عالمی امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

Exit mobile version