کراچی: پاکستان کے معروف کاروباری شخصیت عارف حبیب نے دعویٰ کیا ہے کہ نجکاری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) پہلے ہی سال منافع بخش ادارہ بن جائے گی۔ ان کے مطابق نئی انتظامیہ تجارتی بنیادوں پر فیصلے کرے گی اور صرف انہی روٹس پر پروازیں چلائی جائیں گی جو مالی طور پر فائدہ مند ہوں۔
ایکسپریس سے خصوصی گفتگو میں عارف حبیب نے کہا کہ مستقبل میں کسی بھی فضائی روٹ کو محض رعایتی یا غیر تجارتی بنیادوں پر برقرار نہیں رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر روٹ کا فیصلہ اس کی مالی استعداد اور منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت کمپنی کے 66 فیصد حصص کی ادائیگی مکمل ہو چکی ہے، جبکہ باقی 34 فیصد حصص کی رقم ایک سال کے اندر ادا کی جائے گی۔ ان کے مطابق معاہدے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ نجکاری کے بعد کم از کم ایک سال تک کسی بھی ملازم کو ملازمت سے نہیں نکالا جائے گا۔
عارف حبیب نے کہا کہ پی آئی اے میں اعلیٰ انتظامی عہدوں پر بھرتیوں کا عمل جاری ہے اور توقع ہے کہ آئندہ ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران یہ مرحلہ مکمل ہو جائے گا، جس کے بعد ادارے کی انتظامی ساخت مزید مستحکم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت پی آئی اے کے بیڑے میں 19 طیارے شامل ہیں، تاہم آئندہ پانچ برس کے دوران ان کی تعداد بڑھا کر 60 کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق جیسے جیسے طیاروں کی تعداد میں اضافہ ہوگا، ویسے ہی ادارے میں ملازمین کی تعداد بھی بڑھائی جائے گی تاکہ آپریشنل ضروریات پوری کی جا سکیں۔

