آزاد کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی کے تناظر میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وہ تنازع کے پرامن حل اور مذاکرات کے حامی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مولانا فضل الرحمان ثالثی کے ذریعے فریقین کو کسی متفقہ لائحہ عمل پر آمادہ کرتے ہیں تو یہ ایک مثبت پیش رفت ہوگی۔
جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین نے پاکستان اور کشمیر کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں، اس لیے انہیں نمائندگی سے محروم کرنا یا ان کی نشستوں کو متنازع بنانا مناسب نہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیریوں کو تین مختلف حوالوں سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پہلی کیٹیگری ان کشمیریوں کی ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد اور قربانیاں دے رہے ہیں اور جن کی پاکستان سے وابستگی اور محبت غیرمتزلزل ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دوسری کیٹیگری ان کشمیری مہاجرین کی ہے جنہوں نے تقسیم ہند کے دوران یا اس کے بعد ہجرت کی اور بڑی قربانیاں دیں۔ ان کے بقول ان مہاجرین کی نمائندہ نشستوں کو متنازع بنانے کی کوشش درست نہیں۔
وزیر دفاع کے مطابق تیسری کیٹیگری آزاد کشمیر میں رہنے والے شہریوں کی ہے، جن کی اپنی شناخت اور خدمات ہیں، تاہم پہلی دو کیٹیگریز کے کشمیریوں کی قربانیوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ تقسیم ہند کے دوران بھارتی پنجاب سے بھی لاکھوں افراد پاکستان آئے اور انہوں نے بڑی قربانیاں دیں۔ ان کے بقول مہاجرین کی قربانیوں کا اعتراف کرنا قومی ذمہ داری ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد کرنے والوں کا استحقاق بھی اپنی جگہ اہم ہے۔
خواجہ آصف نے کہا کہ ان کی رائے میں 1947 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں جس پیمانے پر قربانیاں دی گئی ہیں، ان کی مثال کم ملتی ہے، اس لیے ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جانا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان کے ممکنہ ثالثی کردار سے متعلق سوال پر وزیر دفاع نے کہا کہ وہ اس حوالے سے قومی اسمبلی میں بھی اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق اگر مولانا فضل الرحمان مذاکرات کے لیے کوئی کردار ادا کرتے ہیں اور تمام فریق اس پر متفق ہو جاتے ہیں تو وہ اس عمل کی حمایت کریں گے۔

