کراچی: کوکین نیٹ ورک سے متعلق ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ ماضی میں "پنکی” کے نام سے منسوب مبینہ منشیات فروش گروہ ایک بار پھر متحرک ہو گیا ہے اور نئے موبائل نمبروں کے ذریعے اپنے پرانے گاہکوں سے رابطے کر رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے پولیس کی جانب سے اس مخصوص دعوے کی سرکاری تصدیق نہیں کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پرانے موبائل نمبرز بند ہونے کے بعد مبینہ طور پر نئے نمبروں سے صارفین کو پیغامات بھیجے جا رہے ہیں، جن میں کوکین کی فراہمی اور مختلف قیمتوں پر پیکجز کی پیشکش کی جا رہی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مبینہ طور پر "گولڈن کوکین” 25 ہزار روپے اور "سلور کوکین” 15 ہزار روپے میں فروخت کرنے کی پیشکش کی جا رہی ہے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ چار پیکٹ خریدنے پر ایک اضافی پیکٹ مفت دینے کی آفر دی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق مبینہ خریداروں کو آرڈر اور ڈلیوری کے لیے دو نئے موبائل نمبرز فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ ادائیگی صرف آن لائن منتقل کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ رقم "رمشاء” نامی خاتون کے اکاؤنٹ میں وصول کی جا رہی ہے۔
اس معاملے سے منسوب ایک مبینہ آڈیو پیغام بھی سامنے آیا ہے، جس میں آن لائن ادائیگی کے بعد مطلوبہ مقام پر منشیات پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تاہم اس آڈیو پیغام کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی کے ضلع جنوبی کے علاقوں، جن میں درخشاں، گزری، ڈیفنس، بوٹ بیسن، کلفٹن اور ساحل تھانے کی حدود شامل ہیں، وہاں مبینہ طور پر 15 سے 20 منٹ کے اندر منشیات پہنچانے کی پیشکش کی جا رہی ہے، جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں 40 سے 50 منٹ میں ڈلیوری کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
دوسری جانب پولیس کا کہنا ہے کہ شہر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔ تاہم ذرائع کے ان دعوؤں کے تناظر میں اس مخصوص مبینہ نیٹ ورک کی سرگرمیوں سے متعلق پولیس نے باضابطہ طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا ہے۔
نوٹ: اس خبر میں شامل نیٹ ورک کی سرگرمیوں، قیمتوں، ڈلیوری کے دعوؤں اور دیگر تفصیلات ذرائع سے منسوب ہیں۔ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

