کلثوم بائی ولیکا اسپتال سے متعلق متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ اسپتال میں مبینہ طبی غفلت کے باعث 200 بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہوا، جبکہ 9 بچوں کی جان چلی گئی۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کی سینئر رہنما کشور زہرا، مرکزی رہنما زاہد منصوری اور سینئر ایڈووکیٹ طارق منصور نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
زاہد منصوری نے الزام لگایا کہ ڈسپوزیبل سرنجوں کے مبینہ دوبارہ استعمال کے باعث بچوں میں ایچ آئی وی منتقل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان الزامات میں صداقت ثابت ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار متعلقہ حکام اور ذمہ دار افسران کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ متاثرہ بچوں کو فوری اور مفت طبی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ جاں بحق بچوں کے لواحقین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔
سینئر ایڈووکیٹ طارق منصور نے کہا کہ سیسی کے سالانہ بجٹ کا بڑا حصہ طبی سہولیات اور میڈیکل سپلائیز کے لیے مختص کیا جاتا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس کے باوجود اسپتال میں مبینہ غفلت کا واقعہ سامنے آیا، جس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاملے پر سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا جا چکا ہے، جبکہ انصاف نہ ملنے کی صورت میں اقوام متحدہ سے بھی رجوع کرنے کی درخواست دی گئی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پرچیز کمیٹی اور متعلقہ افسران کے کردار کی تحقیقات کی جائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران متاثرہ خاندانوں کے بعض افراد بھی موجود تھے۔
نوٹ: خبر میں شامل الزامات ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ متعلقہ اسپتال، سیسی یا حکومت سندھ کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہو سکا۔

