عراقی ذرائع کے مطابق تیل کی پیداوار یا اوپیک سے علیحدگی کا حتمی فیصلہ وزیراعظم کے آئندہ ماہ واشنگٹن کے دورے کے بعد کیا جائے گا۔
عراق نے تیل کی پیداوار بڑھانے کی اپنی تجویز مسترد ہونے پر اوپیک سے نکلنے کی دھمکی دی ہے۔
عراق جنگ سے ہونے والے معاشی نقصانات کی تلافی کے لیے تیل کی برآمدات بڑھانا چاہتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت اس نے پیداوار میں اضافے کی تجویز پیش کی تھی۔
تاہم اوپیک نے یہ تجویز منظور نہیں کی۔ اس کے بعد بغداد نے تنظیم سے علیحدگی پر غور شروع کر دیا۔
عراقی خبر ایجنسی کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق تیل کی پیداوار بڑھانے یا اوپیک سے نکلنے کا فیصلہ وزیراعظم کے آئندہ ماہ واشنگٹن کے دورے کے بعد کیا جائے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عراق اگر اوپیک سے الگ ہوتا ہے تو یہ تنظیم کے لیے بڑا دھچکا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق عراق دنیا کا دوسرا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس لیے اس کی علیحدگی عالمی توانائی منڈی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ اپریل میں متحدہ عرب امارات نے بھی اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔

