Site icon Tashakur News

ایران-امریکا مذاکرات: آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان سے سفارتی کوششوں کو دھچکا، سوئٹزرلینڈ میں اہم مذاکرات شروع

Iran-US negotiators heading to Switzerland as tensions rise over the Strait of Hormuz and Lebanon conflict.

Iranian and US negotiators prepare for talks amid renewed regional tensions.

ایران-امریکا مذاکرات کے نئے مرحلے سے قبل مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ایران نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ وہ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے ردعمل میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کر رہا ہے، جس سے حالیہ ایران-امریکا مفاہمت اور خطے میں جنگ کے خاتمے کی سفارتی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

گٹکا اسمگلنگ: ایسٹ پولیس کی کارروائی، انڈین گٹکا کی بڑی کھیپ پکڑی گئی

ایرانی اور امریکی مذاکرات کار سوئٹزرلینڈ روانہ ہو چکے ہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان جاری سفارتی عمل کو بچانے کے لیے اہم بات چیت متوقع ہے۔ اس سے قبل جمعے کو ہونے والے مذاکرات اسرائیل کے لبنان میں مہلک حملوں کے بعد ملتوی کر دیے گئے تھے۔

واشنگٹن نے جمعے کو لبنان میں ایک نئی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، جو ایران کے ساتھ طے پانے والے ابتدائی معاہدے کا اہم حصہ تھی۔ تاہم ہفتے کے روز اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے رہے۔

ایران کی مرکزی عسکری قیادت نے امریکا پر معاہدے کی خلاف ورزی اور جنوبی لبنان میں اسرائیل کی مسلسل کارروائیوں کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت روک دی جائے گی۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحری فورس نے بھی جہازوں کو گزرگاہ کے قریب نہ آنے کی تنبیہ کی۔

آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے۔ جنگ کے دوران اس کی بندش نے عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کی تھی۔ ایران نے رواں ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان طے پانے والے ابتدائی معاہدے کے تحت اس راستے کو دوبارہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، جس کے بعد بحری تجارت بحال ہونا شروع ہو گئی تھی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے اعلان کے بعد کہا کہ بین الاقوامی آبی گزرگاہ میں محفوظ آمد و رفت برقرار ہے اور امریکی افواج صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بھی خبردار کیا کہ اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا آبنائے ہرمز پر اپنے محصولات نافذ کرنے پر غور کر سکتا ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی پر مشتمل وفد سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران مذاکرات میں دوسرے فریق سے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کا مطالبہ کرے گا، بصورت دیگر پوری مفاہمت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ رہے ہیں۔ روانگی سے قبل انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان میں جنگ بندی کے معاملات پر پیش رفت کا خواہاں ہے۔

پاکستان، جو اس سفارتی عمل میں ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے، نے اعلان کیا ہے کہ اتوار کو سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں تکنیکی سطح کے مذاکرات ہوں گے۔ ان مذاکرات میں پاکستانی اور قطری ثالث بھی امریکی اور ایرانی نمائندوں کے ساتھ شریک ہوں گے۔ فریقین ابتدائی معاہدے میں باقی رہ جانے والے معاملات، خصوصاً ایران کے جوہری پروگرام، پر دو ماہ کے مذاکراتی مرحلے کا آغاز کریں گے۔

ادھر لبنان کے جنوبی علاقوں میں لڑائی جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ ایک اور فوجی ہلاک ہو گیا ہے، جبکہ حزب اللہ نے اسرائیل پر جنگ بندی کی آڑ میں دراندازی کی کوشش کا الزام لگایا۔ لبنانی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں کم از کم 16 افراد ہلاک ہوئے۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق صیدا کے قریب ایک حملے میں مزید سات افراد جان سے گئے جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ لڑائیوں میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا کہ ان کی جماعت کسی بھی حملے کا جواب دینے کا مکمل حق رکھتی ہے۔ دوسری جانب امریکا میں اسرائیل کے سفیر یخئیل لیٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی حزب اللہ نے کی، جبکہ حزب اللہ نے تمام تر ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔

مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش، لبنان میں جنگ بندی کی ناکامی اور ایران-امریکا مذاکرات کے مستقبل نے خطے کو ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔

Exit mobile version