Site icon Tashakur News

سندھ ہائیکورٹ: پیٹرول اسمگلنگ کیس میں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی بطور وکیل پیشی پر قانونی بحث، مقدمہ خارج

کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف مبینہ پیٹرول اسمگلنگ سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ اور غیر معمولی قانونی صورتحال دیکھنے میں آئی جب کمپنی کی جانب سے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب بطور وکیل عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے دوران کسٹم حکام کے وکیل شہاب امام نے ان کی پیشی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ قانون کے مطابق کسی حاضر سروس میئر کو نجی مقدمے میں بطور وکیل پیش ہونے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اس پر عدالت میں اس وقت دلچسپ ریمارکس سامنے آئے جب جسٹس نثار بھمبھرو نے کہا کہ اگر اس تشریح کو سختی سے لیا جائے تو آدھے وکلاء کو عدالت سے باہر ہونا پڑے گا۔ اسی دوران جسٹس سلیم جیسڑ نے ریمارکس دیے کہ متعدد وکلاء سرکاری عہدوں، کاروبار اور دیگر ذمہ داریوں کے ساتھ بھی عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں۔

سماعت کے دوران کسٹم کے وکیل شہاب امام نے مزید کہا کہ وہ صرف قانون کی عملداری کی بات کر رہے ہیں اور ان کا اور میئر کراچی کا تعلق خاندانی نوعیت کا ہے، جس پر جسٹس سلیم جیسڑ نے مزاحیہ انداز میں سوال کیا کہ پہلے یہ واضح کریں کہ آپ ہابیل اور قابیل میں سے کون ہیں، جس پر کمرہ عدالت قہقہوں سے گونج اٹھا۔

کسٹم وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ حاضر سروس میئر کی نجی مقدمات میں وکالت سے متعلق آبزرویشن فیصلے کا حصہ بنائی جائے، تاہم مرتضیٰ وہاب نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ بطور میئر حکومت سندھ سے کوئی تنخواہ نہیں لیتے اور منتخب نمائندے قانون کے مطابق وکالت جاری رکھ سکتے ہیں۔

مرکزی دلائل میں انہوں نے کہا کہ کسٹم حکام نے نجی کمپنی کے گودام پر چھاپہ مار کر اسے سیل کیا اور دو ملازمین کو گرفتار کیا، حالانکہ کمپنی کے پاس اوگرا سمیت تمام متعلقہ اداروں کی قانونی دستاویزات موجود تھیں۔

دوسری جانب کسٹم حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ کمپنی کے پاس مقررہ مقدار سے زائد پیٹرول ذخیرہ تھا اور مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر کارروائی کی گئی۔

دلائل مکمل ہونے کے بعد سندھ ہائیکورٹ نے نجی پیٹرولیم کمپنی کے خلاف کسٹم حکام کا مقدمہ کالعدم قرار دے دیا۔

Exit mobile version