Site icon Tashakur News

سندھ بجٹ 2026: مراد علی شاہ کا بڑی ترقیاتی اسکیموں کا اعلان، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

کراچی میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ انہوں نے بجٹ کی اہم ترجیحات اور آئندہ مالی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ ان کے مطابق حکومت کی توجہ اب بڑے ترقیاتی منصوبوں پر مرکوز ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ

وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے اثرات کم کرنے کے لیے یہ فیصلہ ضروری تھا۔ 2023 اور 2025 کے ایڈہاک الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کر دیا گیا ہے۔

کم از کم آمدن میں اضافہ

مراد علی شاہ کے مطابق آئندہ مالی سال میں کم از کم آمدن 43 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدام کم آمدن طبقے کے لیے ریلیف فراہم کرے گا۔ حکومت کا مقصد مالی دباؤ کم کرنا ہے۔

صحت اور بلدیاتی اداروں کے لیے گرانٹس

وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (SIUT) کے لیے 26.2 ارب روپے کی گرانٹ رکھی گئی ہے۔ اسی طرح بلدیاتی اداروں کو 155 ارب روپے دیے جائیں گے۔ یہ فنڈز شہری سہولیات بہتر بنانے کے لیے استعمال ہوں گے۔

جاری ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل

حکومت سندھ نے آئندہ سال 2056 جاری اسکیمیں مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ اس سال کوئی نئی ترقیاتی اسکیم شامل نہیں کی گئی۔ ترجیح موجودہ منصوبوں کو مکمل کرنا ہے۔

پارٹی قیادت کا بڑا فیصلہ

مراد علی شاہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی قیادت نے بڑے منصوبوں پر توجہ دینے کی ہدایت دی ہے۔ ان کے مطابق صدر آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے اس حوالے سے واضح رہنمائی دی ہے۔ اب چھوٹے منصوبوں کے بجائے بڑے اسٹرکچر پر کام ہوگا۔

این ایف سی ایوارڈ پر مؤقف

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے فارمولے میں تبدیلی کی تجویز کو مسترد کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام آئینی اصولوں کے خلاف تھا۔ انہوں نے وفاقی معاملات پر صوبائی مؤقف بھی واضح کیا۔

وفاق اور صوبوں کا تعاون

انہوں نے کہا کہ دفاع اور قومی یکجہتی کے لیے صوبوں نے وفاق کے ساتھ تعاون کیا۔ آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں نے وفاق کو گرانٹس دینے کا فیصلہ کیا۔ سندھ حکومت نے آئینی حدود میں رہتے ہوئے یہ کردار ادا کیا۔

آئندہ ترقی کا وژن

وزیراعلیٰ سندھ نے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو سال میں ترقیاتی صورتحال بہتر ہوگی۔ ان کے مطابق بڑی اسکیموں کی منصوبہ بندی سے صوبے میں مثبت تبدیلی آئے گی۔

Exit mobile version