کراچی میں سندھ اسمبلی کا اجلاس اسپیکر Awais Qadir Shah کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزیراعلیٰ سندھ Murad Ali Shah نے آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیا۔
اجلاس کے آغاز ہی میں ماحول کشیدہ ہو گیا جب وزیراعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن اور ایم کیو ایم اراکین کی جانب سے شور شرابہ اور احتجاج کیا گیا۔ اپوزیشن اراکین نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں بجٹ پر اظہارِ خیال کا مناسب موقع دیا جائے، جس پر ایوان میں صورتحال مزید گرم ہو گئی۔
اسپیکر سندھ اسمبلی نے اراکین کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ کارروائی میں حصہ نہیں لینا چاہتے تو واک آؤٹ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر اپنی نشستوں پر بیٹھ کر سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی کی نشستیں عوام کی امانت ہیں اور ایوان کی کارروائی پوری قوم دیکھ رہی ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنی بجٹ تقریر کے آغاز میں کہا کہ مسلسل گیارہویں بجٹ کی پیشکش ان کے لیے اعزاز کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ انہوں نے اپنے مرحوم والدین کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی دی ہوئی اقدار آج بھی ان کی رہنمائی کر رہی ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت کا ترقیاتی ایجنڈا ہاریوں، محنت کشوں، خواتین اور نوجوانوں کی فلاح پر مبنی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ نے ہمیشہ ایک ذمہ دار وفاقی اکائی کا کردار ادا کیا ہے۔
بجٹ تقریر میں انہوں نے اعلان کیا کہ کراچی میں سندھ انٹرنیشنل فنانشل سینٹر قائم کیا جائے گا جو اسلامی اور کلائمیٹ فنانس کا اہم مرکز ہوگا، جبکہ سندھ گرین ڈیٹا انفراسٹرکچر انیشیٹو بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ کراچی میں سندھ سیف سٹیز پروگرام کے تحت 1325 اسمارٹ کیمرے نصب کیے جا چکے ہیں۔
وزیراعلیٰ کے مطابق ترقیاتی پروگرام کے تحت سڑکوں، اسپتالوں، اسکولوں اور پانی کے منصوبوں سمیت مجموعی طور پر 337 سڑکوں، 179 بلدیاتی منصوبوں اور 175 پانی و نکاسی آب کے منصوبے مکمل کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب متاثرین کے لیے سندھ پیپلز ہاؤسنگ پروگرام کے تحت 10 لاکھ گھر تعمیر کیے گئے جبکہ لاکھوں خواتین کو زمین کے مالکانہ حقوق فراہم کیے گئے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق سندھ کا ترقیاتی بجٹ 656 ارب روپے سے زائد رکھنے کی تجویز ہے، جس میں صوبائی ترقیاتی پروگرام کے لیے 641 ارب روپے اور ضلعی ترقیاتی اسکیموں کے لیے 15 ارب روپے شامل ہیں۔
تعلیم اور صحت کو بجٹ میں نمایاں ترجیح دی گئی ہے۔ تعلیم کے لیے 50.12 ارب روپے اور صحت کے لیے 38.89 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ اسکول ایجوکیشن کے لیے 38.21 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
دیگر شعبوں میں لوکل گورنمنٹ کے لیے 121.6 ارب روپے، ٹرانسپورٹ کے لیے 39.5 ارب روپے، زراعت کے لیے 4.9 ارب روپے، توانائی کے لیے 5.18 ارب روپے اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کے لیے 6.30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے اور کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 43 ہزار روپے کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
کراچی کے میگا ترقیاتی منصوبوں کے لیے 14 ارب 11 کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ شہر میں انفرا اسٹرکچر، ٹرانسپورٹ اور شہری سہولیات کے منصوبوں پر کام تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ پر بحث کے دوران ایوان میں حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان شدید نوک جھونک دیکھی گئی، تاہم حکومت نے اسے عوامی فلاح اور ترقی کا بجٹ قرار دیا ہے۔

