ٹریفک جرمانے اور قانون کی سختی
کراچی میں ٹریفک جرمانے سخت کرنے سے متعلق اہم بیان سامنے آیا ہے۔ ڈی آئی جی ٹریفک کراچی نے کہا کہ جرمانے اتنے زیادہ ہونے چاہییں کہ لوگ قانون توڑنے سے ڈریں۔
یہ بیان کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کی تقریب میں دیا گیا۔ انہوں نے ٹریفک نظام میں بہتری اور قانون پر عملدرآمد کو ضروری قرار دیا۔
ای ٹکٹنگ نظام کی کامیابی
ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا کہ ای ٹکٹنگ سسٹم صرف 6 ماہ میں مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ نوجوان افرادی قوت کو خصوصی تربیت دی گئی۔
حکومت سندھ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ای ٹکٹنگ نظام نافذ کیا تھا۔ اس نظام کا مقصد ٹریفک کنٹرول کو جدید بنانا ہے۔
ٹریفک جرمانے اور حادثات میں کمی
ڈی آئی جی ٹریفک کے مطابق ٹریفک حادثات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 30 فیصد کمی ہوئی ہے۔
حادثات کی تعداد 445 سے کم ہو کر 308 رہ گئی ہے۔ اسی طرح اموات بھی 445 سے کم ہو کر 345 ہو گئی ہیں۔ یہ بہتری ٹریفک جرمانے اور سخت نگرانی کے باعث ممکن ہوئی ہے۔
بڑے حادثات اور زخمی افراد
پیر محمد شاہ نے بتایا کہ بڑے گاڑیوں کے حادثات میں بھی کمی آئی ہے۔
گزشتہ سال 155 بڑے حادثات ہوئے تھے جبکہ اس سال 75 رپورٹ ہوئے۔
زخمی افراد کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔
یہ تعداد 886 سے کم ہو کر 569 رہ گئی ہے۔
کیمرہ مانیٹرنگ اور رویوں میں تبدیلی
ڈی آئی جی ٹریفک نے کہا کہ کیمرہ مانیٹرنگ سے شہری رویوں میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔
اب سیٹ بیلٹ کا استعمال بڑھ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی عام تھی۔
اب شہری زیادہ محتاط ہو رہے ہیں۔
یہ تبدیلی ٹریفک جرمانے کے مؤثر نفاذ کا نتیجہ ہے۔
ٹریفک فلو یونٹ کا کردار
انہوں نے بتایا کہ ٹریفک فلو یونٹ ٹریفک جام کم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ یونٹ غلط پارکنگ کے خلاف بھی کارروائی کرتا ہے۔
34 مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں ٹریفک متاثر ہوتا ہے۔
ان مقامات پر خصوصی نگرانی جاری ہے۔
قانون پر عملدرآمد کی ضرورت
پیر محمد شاہ نے کہا کہ کم عمر ڈرائیونگ پر کوئی رعایت نہیں دی جاتی۔ موٹر سائیکل کا کم از کم چالان 2500 روپے ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہیلمٹ پہننے سے شہری چالان سے بچ سکتے ہیں۔ قانون پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔

