Site icon Tashakur News

ویمن میڈیا سینٹر پاکستان کا خواتین صحافی کے کردار پر اہم انکشاف

 خواتین صحافی کانفرنس میں اہم انکشافات

اسلام آباد میں منعقدہ ایک روزہ کانفرنس میں خواتین صحافی کے کردار اور چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ یہ پروگرام ویمن میڈیا سینٹر پاکستان اور نیشنل اینڈومنٹ فار ڈیموکریسی کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ پاکستان کے میڈیا میں خواتین کی نمائندگی اب بھی محدود ہے۔ اسی وجہ سے خواتین صحافی کو پیشہ ورانہ میدان میں متعدد رکاوٹوں کا سامنا ہے۔


 ویمن میڈیا سینٹر پاکستان رپورٹ

کانفرنس میں ویمن میڈیا سینٹر پاکستان کی بانی فوزیہ شاہین نے اہم انکشاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ گلوبل میڈیا مانیٹرنگ پروجیکٹ 2025 کے مطابق جینڈر گیپ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ان کے مطابق صرف 4 فیصد خواتین رپورٹرز فیلڈ ورک میں فعال ہیں۔ اسی صورتحال نے خواتین صحافی کے لیے مواقع مزید محدود کر دیے ہیں۔


 نزہت شیریں کا میڈیا تاریخ پر بیان

سابق سربراہ نزہت شیریں نے کہا کہ خواتین نے ماضی میں میڈیا فریڈم کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ضیاء الحق دور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواتین صحافی مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔
یہ تاریخ آج بھی خواتین صحافی کے حوصلے کی علامت ہے۔


 میڈیا انڈسٹری میں خواتین کا کردار

نیشنل پریس کلب کی سابق سیکریٹری فوزیہ شاہد نے کہا کہ خود کو محدود کرنا ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ماضی میں کئی خواتین صحافیوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔
یہ رجحان آج بھی خواتین صحافی کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔


 خواتین کی باہمی سپورٹ کی ضرورت

سینیئر صحافی فرحت نے کہا کہ خواتین کو ایک دوسرے کی حمایت کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا انڈسٹری میں برابری کے بغیر ترقی ممکن نہیں۔ شرکاء نے بھی اس بات پر زور دیا کہ خواتین صحافی کو فیصلہ سازی میں شامل کیا جائے۔ اس سے میڈیا اداروں میں توازن بہتر ہوگا۔


 پالیسی اصلاحات کی ضرورت

سینئر تجزیہ کار ظفراللہ خان نے کہا کہ یونینز میں خواتین کے مسائل کے لیے باقاعدہ پالیسی بننی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صرف بات نہیں بلکہ عملدرآمد بھی ضروری ہے۔
اس سے خواتین صحافی کے مسائل کم ہو سکتے ہیں۔


 کانفرنس کا بنیادی مقصد

یہ پروگرام میڈیا انڈسٹری میں خواتین صحافی، ایڈیٹرز، پروڈیوسرز اور اینکرز کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لیے منعقد کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ محفوظ ورکنگ ماحول انتہائی ضروری ہے۔
اسی کے ساتھ فیصلہ سازی میں خواتین کی مؤثر نمائندگی بھی لازمی ہے۔

Exit mobile version