عراق معاہدہ کے تحت ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق ریاستی کنٹرول سے باہر مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
امریکی سفارتخانے نے اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے مشترکہ بیان جاری کیا ہے۔
عراق معاہدہ اور امریکی سفارتخانے کا بیان
امریکی سفارتخانے کے مطابق عراق معاہدہ عراقی وزیراعظم اور امریکی ایلچی کی ملاقات کے بعد طے پایا۔
ملاقات میں عراقی وزیراعظم اور امریکی خصوصی ایلچی ٹام بیرک نے مذاکرات کیے۔
عراق معاہدہ اور امن و سلامتی پر زور
بیان کے مطابق عراق معاہدہ کا مقصد ملک کو دہشتگردی سے پاک اور محفوظ بنانا ہے۔
دونوں فریقین نے عراق کی خودمختاری اور علاقائی امن کے تحفظ پر زور دیا۔
عراق معاہدہ میں مسلح گروہوں کا معاملہ
امریکی سفارتخانے کے مطابق عراق معاہدہ کے تحت غیر ریاستی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کیا جائے گا۔
یہ اقدام ریاستی کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عراق معاہدہ اور اعلیٰ سطحی دعوت
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ عراق معاہدہ کے بعد امریکی صدر نے عراقی وزیراعظم کو وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔
یہ دعوت دونوں ممالک کے درمیان مزید سفارتی روابط کو مضبوط بنانے کی جانب اشارہ کرتی ہے۔
United States اور Iraq کے درمیان یہ پیش رفت خطے میں سیاسی توازن پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

