Site icon Tashakur News

کراچی میں 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کا انکشاف، پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی ہوگی

NCCIA officials investigating a Karachi call center following a raid that resulted in 273 arrests and seizure of electronic devices

NCCIA reveals widespread scam call center operations in Karachi following a major raid on Shahrah-e-Faisal

ایڈیشنل ڈائریکٹر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) شہزاد اکبر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں اندازاً 350 اسکیمنگ کال سینٹرز کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائبر کرائم میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب پورے نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے بتایا کہ شارع فیصل پر قائم ایک کال سینٹر کے خلاف حالیہ کارروائی میں 273 افراد گرفتار کیے گئے۔ گرفتار افراد میں تقریباً 100 خواتین اور 42 کم عمر افراد بھی شامل ہیں۔

کال سینٹر کے خلاف دوبارہ کارروائی

شہزاد اکبر کے مطابق حالیہ کارروائی شہر کی تین بڑی کمپنیوں میں سے ایک کے خلاف کی گئی ہے۔ شارع فیصل کال سینٹرز کا ایک بڑا مرکز ہے، جہاں قائم ایک بڑی کمپنی کے خلاف کارروائی ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ ماضی میں صرف مالکان کو گرفتار کرنے سے یہ نیٹ ورک ختم نہیں ہو سکا۔ مالک کی گرفتاری کے بعد بعض گروپ اپنے رشتے داروں کے ذریعے نام تبدیل کرکے نئی کمپنی قائم کر لیتے تھے۔

اس طرح وہ دوبارہ مبینہ غیر قانونی سرگرمیاں شروع کر دیتے تھے۔ ان کے بقول بعض ملازمین بھی اس نوعیت کی جعل سازی سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے ہیں۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ شارع فیصل کے اسی کال سینٹر پر ماضی میں بھی چھاپہ مارا گیا تھا۔ تاہم کارروائی کے بعد دوبارہ اسی نوعیت کا کام شروع کر دیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اب پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کسی شخص کو ملازم یا مالک ہونے کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی۔

339 لیپ ٹاپ اور 152 موبائل فون ضبط

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور 4 سی پی یو تحویل میں لیے گئے۔

ان کے مطابق ضبط کیے گئے ہر لیپ ٹاپ پر مختلف جعلی آن لائن آئی ڈیز بنائی گئی تھیں۔ ان میں کریڈٹ کارڈ رکھنے والے افراد کی اہم مالی معلومات بھی موجود تھیں۔

ملزمان مبینہ طور پر پرکشش آفرز اور مختلف جھانسوں کے ذریعے کریڈٹ کارڈ ہولڈرز کی تفصیلات حاصل کرتے تھے۔ بعد ازاں ان کے اکاؤنٹس سے رقوم نکال لیتے تھے۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ ضبط کیے گئے لیپ ٹاپ سے ہزاروں غیر ملکی شہریوں کا ڈیٹا بھی ملا ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیقات جاری ہیں۔

منی لانڈرنگ اور حوالہ ہنڈی کے شواہد

شہزاد اکبر کے مطابق کال سینٹرز کی سرگرمیوں میں منی لانڈرنگ، حوالہ ہنڈی اور مرچنٹ نیٹ ورکس کے ملوث ہونے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کال سینٹرز کے ذریعے صرف بین الاقوامی سطح پر فراڈ نہیں کیا جا رہا۔ مقامی شہریوں کو بھی مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا گیا ہے۔

ریٹائرڈ افراد کو دھوکا دے کر لوٹنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

خواتین اور بچوں کے حوالے سے مؤقف

ایڈیشنل ڈائریکٹر این سی سی آئی اے نے کہا کہ کارروائی کے دوران گرفتار تمام افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

ان کے مطابق کارروائی سے قبل اعلیٰ حکام کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ آپریشن مکمل طور پر قانونی تقاضوں کے مطابق کیا گیا۔

انہوں نے واضح کیا کہ ادارے کا مقصد خواتین اور بچوں کو بلاجواز تنگ کرنا نہیں۔ بلکہ انہیں جرائم پیشہ سرگرمیوں سے بچانا ہے۔

شہزاد اکبر نے کہا کہ ملازمین کا مجرمانہ ریکارڈ مرتب کیے بغیر اس نوعیت کی جعل سازی ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے والدین کو بھی تنبیہ کی کہ بچوں کو غیر قانونی سرگرمیوں سے روکیں۔ بصورت دیگر والدین کو بھی قانون کے دائرے میں لایا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں دفعہ 109 کے تحت کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔

آن لائن منشیات اور دیگر سائبر جرائم کے خلاف کارروائیاں

شہزاد اکبر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے حالیہ دنوں میں ڈارک ویب سے متعلق ایک کیس میں متاثرہ بچی کو بازیاب کرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں آن لائن منشیات کی فراہمی اور استعمال کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس سلسلے میں دو افراد گرفتار کیے گئے ہیں۔

ان کے مطابق تعلیمی اداروں میں آن لائن ویب سائٹس کے ذریعے منشیات کی سپلائی اور گولیوں کے استعمال کے معاملات بھی سامنے آئے ہیں۔

شہزاد اکبر نے بتایا کہ آن لائن ملازمتوں کے نام پر فراڈ کے واقعات کی تحقیقات بھی جاری ہیں۔ جاز کیش کے ذریعے مبینہ جعل سازی کی رقم منتقل کرنے کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ این سی سی آئی اے سائبر کرائم کے تمام نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔ کسی شخص کو کال سینٹر کا ملازم یا مالک ہونے کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی۔

Exit mobile version