کراچی میں شارع فیصل کے قریب غیر قانونی کال سینٹر پر چھاپے کے دوران گرفتار 273 افراد کے مقدمے میں عدالت نے اہم حکم جاری کردیا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی گلریز میمن نے 9 ملزمان کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے حوالے کردیا۔
عدالت نے 18 سال سے کم عمر ملازمین اور خواتین ملزمان کو 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت پر رہا کرنے کا حکم بھی دیا۔ دیگر ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی ہدایت کی گئی۔
کال سینٹر کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن پیش
سماعت کے دوران تفتیشی افسر نے ملزمان کو ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش کیا۔ انہوں نے محکمہ داخلہ کا نوٹیفکیشن بھی عدالت میں جمع کرایا۔
تفتیشی افسر کے مطابق محکمہ داخلہ نے متعلقہ کال سینٹر کو سب جیل قرار دیا ہے۔ گرفتار 273 افراد کو اسی کال سینٹر میں حراست میں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ملزمان غیر قانونی کال سینٹر کے ذریعے غیر ملکی شہریوں سے فراڈ میں ملوث تھے۔ تفتیشی افسر نے 9 اہم ملزمان کا جسمانی ریمانڈ طلب کیا، جبکہ دیگر کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیجنے کی استدعا کی۔
وکیل صفائی کی ضمانت کی درخواست
وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں 70 سے زائد کم عمر بچے اور 80 سے زائد خواتین شامل ہیں۔
ان کا مؤقف تھا کہ مقدمے میں شامل دفعات قابل ضمانت ہیں۔ انہوں نے کم عمر ملزمان اور خواتین کو ضمانت پر رہا کرنے کی درخواست کی۔
عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کی 5 ہزار روپے کے مچلکوں پر رہائی کا حکم دیا۔
اہل خانہ کا شارع فیصل پر احتجاج
دوسری جانب گرفتار افراد کے اہل خانہ نے شارع فیصل پر بلوچ کالونی پل کے قریب احتجاج کیا۔ یہ احتجاج دارالامان سوسائٹی میں قائم کال سینٹر پر این سی سی آئی اے کے چھاپے کے بعد کیا گیا۔
مظاہرین نے شارع فیصل بلاک کردی۔ اس کے باعث ٹریفک کا نظام متاثر ہوا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔
احتجاج کے باعث میٹروپول اور ٹیپو سلطان کٹ سے ایئرپورٹ جانے والا راستہ بھی بند ہوگیا۔ اسکول وینز اور ریڈ و گرین بسیں ٹریفک جام میں پھنس گئیں۔
بعض شہریوں نے رانگ وے سفر شروع کردیا، جس سے صورتحال مزید خراب ہوگئی۔ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اہل خانہ کا بچوں کی رہائی کا مطالبہ
پولیس حکام کے مطابق احتجاج میں گرفتار خواتین سمیت دیگر افراد کے اہل خانہ شریک تھے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے بچے کال سینٹر میں ملازمت کرتے تھے۔ ان کا کسی غیر قانونی سرگرمی سے تعلق نہیں تھا۔
اہل خانہ نے اعلیٰ حکام سے اپنے پیاروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
احتجاج کی اطلاع ملنے پر ٹریفک پولیس اور ضلعی پولیس کے افسران موقع پر پہنچ گئے۔ انہوں نے مظاہرین سے مذاکرات کیے۔
مذاکرات کے بعد اہل خانہ نے احتجاج ختم کردیا۔ پولیس نے شارع فیصل پر ٹریفک بحال کردی۔

