پاکستان رینجرز سندھ اور ایس آئی یو پولیس نے جمشید ٹاؤن میں مشترکہ آپریشن کیا۔ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ اس میں صمد کاٹھیاواڑی گروہ کا اہم کارندہ ہلاک ہوگیا۔ دو مبینہ بھتہ خور زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔
ترجمان رینجرز کے مطابق ہلاک ملزم کی شناخت زوہان عرف سانول کے نام سے ہوئی ہے۔ گرفتار زخمی ملزمان حسن عرف مرغی والا اور حسین عرف مونی ہیں۔ ملزمان سے اسلحہ اور ایمونیشن بھی برآمد ہوا ہے۔
رینجرز کے مطابق 24 اکتوبر 2026 سے اب تک بھتہ مافیا کے خلاف یہ تیسری بڑی مشترکہ کارروائی ہے۔
میمن مال اور نشتر روڈ پر فائرنگ کے واقعات
ترجمان کے مطابق 2 اکتوبر 2026 کو میمن مال شاپنگ پلازہ ملیر میں فائرنگ ہوئی تھی۔ صمد کاٹھیاواڑی گروہ کے نامعلوم کارندوں نے مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی۔
واقعے میں سکیورٹی گارڈ علی رضا ہلاک اور ایک گارڈ زخمی ہوا تھا۔ اس واقعے کا مقدمہ ملیر سٹی تھانے میں درج ہے۔
اسی گروہ نے 28 اکتوبر کو جمانی بلڈرز کی زیر تعمیر عمارت پر فائرنگ کی تھی۔ یہ عمارت نشتر روڈ، گارڈن میں واقع ہے۔
فائرنگ سے ایک مزدور موقع پر ہلاک اور دو زخمی ہوگئے تھے۔ اس واقعے کا مقدمہ سولجر بازار تھانے میں درج کیا گیا تھا۔
باغ جناح کے قریب مشترکہ کارروائی
ترجمان کے مطابق دونوں واقعات کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مشترکہ ٹیم تشکیل دی۔
ٹیم نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا اور خفیہ ذرائع سے معلومات حاصل کیں۔ ان شواہد کی مدد سے مبینہ ملزمان کی شناخت کی گئی۔
بعد ازاں باغ جناح کے قریب جمشید ٹاؤن میں ملزمان کی موجودگی کی اطلاع ملی۔ مشترکہ ٹیم نے وہاں چھاپہ مارا۔
رینجرز کے مطابق ملزمان نے ٹیم پر فائرنگ کردی۔ جوابی کارروائی میں زوہان عرف سانول ہلاک ہوگیا۔ دو ملزمان زخمی حالت میں گرفتار کرلیے گئے۔
گرفتار ملزمان کے اہم انکشافات
ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمان حسن عرف مرغی والا اور محمد حسین عرف مونی نے دورانِ تفتیش انکشافات کیے۔
ملزمان نے دعویٰ کیا کہ 2 اکتوبر کو انہوں نے زوہان عرف سانول کے ساتھ میمن مال پر فائرنگ کی تھی۔ ان کے مطابق یہ کارروائی صمد کاٹھیاواڑی کے کہنے پر کی گئی۔ وجہ مبینہ طور پر بھتہ نہ دینا تھا۔
ترجمان کے مطابق سی سی ٹی وی فوٹیجز میں ملزمان کو دیکھا جاسکتا ہے۔
گرفتار ملزمان نے مزید بتایا کہ 15 ستمبر 2026 کو صمد کاٹھیاواڑی نے فائرنگ کی کارروائیوں کے لیے اسلحہ فراہم کیا تھا۔ ان کے مطابق حسین آباد میں ایک نامعلوم ساتھی کے ذریعے 9 ایم ایم پستول اور 50 راؤنڈ دیے گئے تھے۔
ملزمان نے مبینہ طور پر کراچی کے مختلف علاقوں میں زیر تعمیر عمارتوں اور کاروباری افراد کی معلومات بھی فراہم کی تھیں۔ یہ معلومات صمد کاٹھیاواڑی کو بھجوائی جاتی تھیں۔ ان افراد سے بھتہ طلب کیا جانا تھا۔
ترجمان کے مطابق بھتہ نہ دینے والوں کو خوف زدہ کرنے کے لیے مختلف عمارتوں اور مقامات پر فائرنگ کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی تھی۔
عوام سے اطلاع دینے کی اپیل
رینجرز ترجمان کے مطابق ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاری ہیں۔
پاکستان رینجرز سندھ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بھتہ خوری میں ملوث عناصر کی اطلاع فوری دیں۔
شہری قریبی رینجرز چیک پوسٹ یا ہیلپ لائن 1101 پر رابطہ کرسکتے ہیں۔ رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس بھی کیا جاسکتا ہے۔
ترجمان کے مطابق اطلاع دینے والے شہری کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

